پاکستان میں سعودی سرمایہ کاروں کی دلچسپی قابل تعریف ہے، ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی جاری رکھیں گے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی سعودی آسیاد گروپ کے وفد سے گفتگو

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، ڈھانچہ جاتی اصلاحات ، پائیدار سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی ونمو کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے پرتوجہ مرکوزکی ہے

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، ڈھانچہ جاتی اصلاحات ، پائیدار سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی ونمو کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے پرتوجہ مرکوزکی ہے، سعودی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی قابل تعریف ہے، حکومت ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی جاری رکھیں گی۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں سعودی عرب کے آسیاد گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین غسان احمد آمودی سے ملاقات میں کہی۔ اس موقع پر گروپ کے چیف فنانشل آفیسر اور وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے بورڈ ممبر جاوید اختر، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زبیر شیخ اور وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے کارپوریٹ و حکومتی تعلقات کے ڈائریکٹر عمران حسین قریشی بھی موجود تھے۔ملاقات میں گروپ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری، مزید توسیع کے منصوبوں اور اہم شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں حکومت کی وسیع تر نجکاری کی کوششوں سے پیدا ہونے والے مواقع بھی شامل ہیں۔ غسان آمودی نے پاکستان کو طویل المدتی سرمایہ کاری کی ایک اہم منزل قرار دیتے ہوئے گروپ کے عزم کا اعادہ کیا اور ملک میں اپنے تجربے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودی عرب سے باہر گروپ کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پاکستان میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاروں کی مسلسل دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور نجکاری کے جاری عمل کے ذریعے پیدا ہونے والے نئے مواقع پرروشنی ڈالی،انہوں نے قابلِ اعتماد اور طویل المدتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور اہم شعبوں میں تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے سعودی عرب اور نجی شعبے کے ساتھ کثیرالجہتی روابط کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ غسان آمودی نے وزیر خزانہ کو آئندہ ہوائی اڈوں کی نجکاری کے عمل میں گروپ کی شرکت میں دلچسپی اور متعلقہ تکنیکی مہارت رکھنے والے سعودی اور بین الاقوامی شراکت داروں کو یکجا کرنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے گروپ کی ہوائی اڈوں کے آپریشنز سے متعلق حالیہ پیش رفت اور اس شعبے میں اس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تجربے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ملاقات میں وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے جاری توسیعی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں اس کے بڑھتے ہوئے ریٹیل نیٹ ورک، ذخیرہ کرنے کے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات شامل ہیں۔ کمپنی نے وزیر خزانہ کو خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں اپنی سرمایہ کاری اور اپنے آپریشنز کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔غسان آمودی نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں اضافی سرمایہ کاری کے مواقع، جن میں مالیاتی شعبہ بھی شامل ہے، تلاش کرنے میں گروپ کی دلچسپی اور ممکنہ منصوبوں کے لیے مزید سعودی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایک ساتھ لانے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے کلی معیشت کے استحکام کی جانب پیش رفت ، جس میں اہم اقتصادی اشاریوں اور ملک کے خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری شامل ہے، پرروشنی ڈالی اورکہاکہ حکومت کی توجہ مالیاتی نظم و ضبط، ڈھانچہ جاتی اصلاحات، پائیدار سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔وزیر خزانہ نے پاکستان پرآسیاد گروپ کے مسلسل اعتماد اور اپنی سرمایہ کاری میں توسیع کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرتی رہے گی اور نجی شعبے کی شمولیت کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری پر مبنی اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے لئے ایک گیٹ وے کے طور پر اس کی صلاحیت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مسلسل تعاون کی حوصلہ افزائی کررہی ہے تاکہ قابلِ عمل مواقع کی نشاندہی کی جا سکے اور سرمایہ کاری کی دلچسپی کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ غسان آمودی نے حکومت کے ساتھ مسلسل روابط کو سراہا اور پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے لیے آسیاد گروپ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔