بیرسٹر دانیال چوہدری کی زیرصدارت پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کی ایڈوائزری کونسل کا اجلاس، ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مؤثر اقدامات پر زور
بیرسٹر دانیال چوہدری کی زیرصدارت پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کی ایڈوائزری کونسل کا اجلاس، ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مؤثر اقدامات پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پمز ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، انہوں نے زور دیا کہ غفلت کے ذمہ دار پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔جمعہ کوانہوں نے یہ بات ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ میں پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کی ایڈوائزری کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں ارکانِ پارلیمنٹ نے ہسپتالوں بالخصوص نومولود بچوں کی نرسریوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا۔اجلاس میں ارکانِ قومی اسمبلی امجد علی خان، سیدہ نوشین افتخار، فرح ناز اکبر، شائستہ خان، زیب جعفر، آسیہ ناز تنولی، کرن حیدر اور سیدہ امینہ بتول نے شرکت کی۔ایڈوائزری کونسل نے پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حقائق سامنے لانے اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء نے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی پروٹوکولز اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، خصوصاً ان طبی مراکز میں جہاں نومولود اور دیگر کمسن و حساس بچے زیر علاج ہوتے ہیں۔پمز سانحے سے متعلق ایک قرارداد قومی اسمبلی میں بھی پیش کی گئی۔ قرارداد میں نومولود بچوں کی اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات، ذمہ داران کی نشاندہی اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ بچوں کی حفاظت اور ان کی زندگیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق کا تعین کرنا ضروری ہے تاکہ غفلت یا فرائض میں کوتاہی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے مؤثر نظام کو یقینی بنانا پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔








