سندھ طاس معاہدہ بدستور موثر ، پابند اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل یا غیر موثر قرار نہیں دے سکتا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور موثر ، پابند اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل یا غیر موثر قرار نہیں دے سکتا

لندن ۔28اگست (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور موثر ، پابند اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل یا غیر موثر قرار نہیں دے سکتا، پانی کے معاملات کو سیاسی دبائو یا جبر کے بجائے قانون، مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،پاکستان اپنے آبی حقوق کی اہمیت کے حوالے سے کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہے،سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو جائز طور پر مختص پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ: جنوبی ایشیائی سلامتی دوراہے پر‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی فریم ورک، علاقائی استحکام کا ذریعہ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا امتحان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے عالمی بینک کی معاونت سے کئی سالہ مذاکرات کے بعد 1960 میں سندھ طاس معاہدہ طے کیا تھا جس کے تحت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کو بلا روک ٹوک استعمال کا حق دیا گیا

جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پاکستان کے بلا روک ٹوک استعمال کے لیے مختص کیے گئے، تاہم معاہدے کے تحت بھارت کو مخصوص اور متعین استعمال کی اجازت حاصل ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ معاہدے نے بالائی ریاست کی صوابدید کے بجائے باہمی طور پر طے شدہ قواعد متعارف کرائے اور مستقل سندھ طاس کمیشن قائم کیا، جبکہ سوالات، اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے کمیشن، حکومتوں کے درمیان رابطے، غیر جانب دار ماہر اور ضرورت پڑنے پر ثالثی عدالت جیسے طریقہ کار وضع کیے گئے۔چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک جنگوں، فوجی بحرانوں، سفارتی کشیدگی اور دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تناؤ کے باوجود سندھ طاس معاہدہ قائم رہا۔ اس کی مضبوطی اس اصول کا ثبوت ہے کہ مشکل ترین تعلقات میں بھی تعاون ممکن ہے، بشرطیکہ طے شدہ قواعد کا احترام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج اس اصول کو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے میں کسی شق کی بنیاد پر نہیں ہے۔ معاہدے میں کسی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل یا التوا میں رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان کا مؤقف واضح اور مستقل ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور درست، پابنداور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ’’التوا‘‘ کے دعوے کے باوجود معاہدے کے تحت کارروائیاں جاری رہی ہیں، جو اس بنیادی اصول کو تقویت دیتی ہیں کہ یکطرفہ اقدام باہمی طور پر طے شدہ قانونی فریم ورک کو ختم نہیں کرسکتا۔یہ معاملہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں بلکہ معاہدوں کی حرمت، بین الاقوامی قانون پر اعتماد اور اس اصول سے متعلق ہے کہ جغرافیہ کسی بالائی ریاست کو زیریں آبادی کی زندگی اور روزگار پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا اختیار نہیں دیتا۔پاکستان کے لیے یہ کوئی قانونی بحث نہیں،سندھ طاس کا نظام 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے لیے زندگی کی شہ رگ ہے۔ زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار، روزگار اور معاشی ترقی کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے پاکستان کے لیے آبی تحفظ معاشی، غذائی اور بالآخر قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے انتظام میں یکطرفہ مداخلت کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا کے استحکام بلکہ دنیا بھر میں معاہداتی تعلقات کے لیے خطرناک مثال بن سکتے ہیں۔پاکستان اپنے آبی حقوق کی اہمیت کے حوالے سے کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہے،سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو جائز طور پر مختص پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گاتاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح واضح ہےکہ یکطرفہ اقدامات کے بجائے قانون، محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور دبائو کے بجائے تعاون۔اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مؤقف بین الاقوامی امور میں پاکستان کے وسیع تر طرزِ عمل سے ہم آہنگ ہے،حالیہ امریکا، ایران بحران کے دوران مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی اسی یقین کی عکاس تھیں کہ مشکل ترین تنازعات کو بالآخر رابطے، سفارت کاری اور پرامن حل کے ذریعے ہی نمٹانا ہوگا۔ پاکستان جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن اور استحکام کی قوت بننے کا خواہاں ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ 65 سال سے زائد عرصے تک سندھ طاس معاہدے نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان اور بھارت اپنے باہمی تعلقات سے ہٹ کر پانی جیسے اہم مشترکہ وسیلے کو محفوظ رکھ سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے محفوظ بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے آگے بڑھنے کا راستہ تین واضح اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔اول سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا جائے ، اس کی شقوں اور روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کیا جائے۔دوم تمام سوالات، اختلافات اور تنازعات کو معاہدے میں فراہم کردہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔سوم پاکستان اور بھارت معاہدے کے مطابق تکنیکی رابطوں، شفافیت اور ڈیٹا شیئرنگ کو بحال اور مضبوط کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ غیر معقول مطالبات نہیں بلکہ دو خودمختار ریاستوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تقاضے ہیں جو چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک برقرار رہا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اس ادراک سے وجود میں آیا تھا کہ مشترکہ جغرافیہ باہمی طور پر طے شدہ قواعد کا تقاضا کرتا ہےاور 1960 میں یہ دانش مندی جتنی متعلقہ تھی، آج بھی اتنی ہی اہم ہے۔