سکیورٹی فورسز نے کم عمر بچیوں کو خودکش حملے میں استعمال کرنےکا کالعدم تنظیم کامنصوبہ ناکام بنا دیا ، وزیرِداخلہ بلوچستان کی پریس کانفرنس

وزیرِ داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نےکہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کم عمر بچیوں کو خودکش حملے میں استعمال کرنے کا کالعدم تنظیم بی ایل اے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

کوئٹہ۔ 29 اگست (اے پی پی):وزیرِ داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نےکہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کم عمر بچیوں کو خودکش حملے میں استعمال کرنے کا کالعدم تنظیم بی ایل اے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گرد خواتین اور بچیوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس عمل سے بلوچ معاشرے کی روایات اور خواتین کے احترام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔دہشت گرد تنظیمیں بھارت کے بیانیے کے تحت بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں،دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے خواتین اور بچوں کو استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ یہ بات انھوں نے ہفتہ کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہی۔وزیرِ داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نےکہا کہ ریاست دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلائے جانے والے بیانیے کا بھی مقابلہ کیا جائے گا۔ ہمارے سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد فتنہ الہندوستان کے ناپاک عزائم کو عوام کے سامنے لانا ہے، اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو تو ہمیشہ سوال کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کیا کر رہی تھیں۔میر ضیاء لانگو نے کہا کہ جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان نے کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملہ کرانے کی کوشش کی، دہشت گرد چادر اور چار دیواری کی پامالی کرنا چاہتے ہیں۔صوبائی وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے زینب کے شوہر سمیت خاندان کے 8 سے 10 افراد کو قتل کیا گیا، تنظیم کے ساتھ کام کرنے سے انکار پر فتنہ الہندوستا ن کی جانب سے سیف کو قتل کر دیا گیا، سیف کے قتل کے بعد مقامی کمانڈر کا رابطہ مقتول کی بیوی زینب سے ہوا۔انہوں نے کہا کہ بلوچوں کی روایت نہیں کہ وہ پہاڑوں میں نامحرموں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کو جھوٹے بیانِیے کو پھیلانے کے لیے ورغلایا جا رہا ہے، جو قابل مذمت ہے، ان بچیوں کے والدین اور رشتے داروں پر حیرانی ہے کہ کیسے انہیں جانے دیا۔وزیرِ داخلہ بلوچستان نے کہا کہ یہ 16 سالہ زینب اور 12 سالہ فاطمہ ہیں جنہیں ورغلایا گیا، 40 دن تک ان کو کال کوٹھری میں رکھا کہ آپ نے خود کش دھماکا کرنا ہے، ان بچیوں کو مکران سے اپنے ساتھ ملایا گیا اور خود کش حملے کے لیے ورغلایا گیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ان بچیوں کے والدین ندامت محسوس کر رہے ہیں، بچیوں کے والدین حیران ہیں کہ کیسے ان کی بچیاں غیر مردوں کے ساتھ پہاڑوں میں تھیں۔میر ضیاء لانگو نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری فورسز نبرد آزما ہیں، فورسز مسلسل جنگ میں مصروف ہیں، زینب کے شوہر کو قتل کرنے کے بعد اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر لگایا گیا، اگر ایک واقعہ ہوتا ہے تو سکیورٹی فورسز 10 واقعات روکتی بھی ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ یہی وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے دہشت گرد نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خواتین اور بچیوں کو پہاڑوں پر لے جا کر مسلح گروہوں کے ساتھ رکھنے کا عمل بلوچ روایات کے منافی ہے۔ میر ضیا لانگو نے کہا کہ اگر کسی بلوچ کی ماں، بہن یا بیٹی کسی نامحرم کے ساتھ پہاڑوں میں جا کر رہے اور دشمن کے بیانیے کے تحت کام کرے تو کیا بیرون ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے بلوچ اپنی خواتین کے بارے میں ایسا تصور قبول کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے بلوچ روایات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر خواتین کے احترام اور ناموس سے متعلق روایات کو۔انہوں نے پریس کانفرنس میں ساتھ موجود 16 سالہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو بی ایل اے کے شکنجے میں لا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔میر ضیا لانگو نے کہا کہ انٹیلیجنس اداروں نے کارروائی کرکے دونوں بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں کس طرح خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وزیرِ داخلہ بلوچستان نے کہا کہ بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام کے حوالے سے اپنی روایات کے لیے جانا جاتا ہے اور پاکستانی معاشرے میں بھی خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ کی قیادت میں خواتین کو سہولیات فراہم کرنے، ان کی تعلیم پر توجہ دینے، آمدورفت بہتر بنانے اور انہیں سکالرشپس دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔میر ضیا لانگو نے کہا کہ کسی بھی انسان کا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کی ماں، بہن یا بیٹی ایک منٹ کے لیے بھی کسی نامحرم کے ساتھ جا کر رہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہی وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے دہشت گرد نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ خواتین اور بچیوں کو پہاڑوں پر لے جا کر مسلح گروہوں کے ساتھ رکھنے کا عمل بلوچ روایات کے منافی ہے۔