وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال سے مفتی عبدالرحیم کی ملاقات، تعلیمی اصلاحات اور قومی ترقی کے لیے دینی و عصری تعلیم کے امتزاج پر گفتگو

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے مفتی عبدالرحیم نے ملاقات کی جس میں ملکی تعلیمی نظام میں اصلاحات، نصاب کی بہتری، دینی و عصری تعلیم کے امتزاج، علم و تحقیق و تخلیق، نوجوانوں کی کردار سازی اور قومی ترقی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے مفتی عبدالرحیم نے ملاقات کی جس میں ملکی تعلیمی نظام میں اصلاحات، نصاب کی بہتری، دینی و عصری تعلیم کے امتزاج، علم و تحقیق و تخلیق، نوجوانوں کی کردار سازی اور قومی ترقی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پروفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ایک ایسے جدید، جامع اور اقدار پر مبنی تعلیمی نظام کی تشکیل کے لیے کام کر رہی ہے جو نوجوانوں کو جدید علوم، تحقیق اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی، فکری اور تہذیبی تربیت بھی یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ جدید جامعات اور مدارس کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو کر قومی ترقی کو اسلامی اصولوں اور اقدار کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تخلیقِ علم کو بھی فروغ دے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اسلام نے انسان کو علم، تحقیق، مشاہدے، تدبر اور تفکر کی دعوت دی ہے۔ مسلم دنیا ایک زمانے میں علمی و تحقیقی میدان میں عالمی قیادت کرتی تھی اور مسلمانوں نے فلکیات، طب، ریاضی، جغرافیہ اور دیگر علوم میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آج ضرورت ہے کہ اس عظیم علمی روایت کو جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کیا جائے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے نوجوان کو علم کا صارف نہیں بلکہ علم کا خالق بننا ہوگا۔ جامعات اور تعلیمی اداروں میں تحقیق، اختراع اور تخلیقِ علم کے کلچر کو فروغ دینا حکومت کی تعلیمی ترجیحات میں شامل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قرآنِ کریم کائنات کے مظاہر پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اس لیے تحقیق کا دائرہ صرف روایتی علوم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ خلاء، سائنس، ماحولیات، نباتات اور کائنات کے مختلف مظاہر تک وسیع ہونا چاہیے۔ملاقات میں نصاب اور کردار سازی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت تعلیمی نصاب کو اس انداز میں بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے کہ طلبہ کو جدید علم کے ساتھ اپنی تاریخ، تہذیب، اقدار اور علمی ورثے سے بھی جوڑا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صرف اسلامیات کی تدریس کافی نہیں، بلکہ تعلیمی نظام میں اخلاقی تربیت، کردار سازی، ذمہ داری اور مثبت قومی اقدار کو بھی مؤثر طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔ آنے والی نسلوں کی فکری اور اخلاقی تربیت ملک کے مستقبل سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔زبان اور تعلیم کے حوالے سے حکومت کی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انگریزی کو ورکنگ لیول پر سیکھنا ضروری ہے، تاہم تخلیقی اور فکری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اپنی قومی و علاقائی زبانوں کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سول سروس اصلاحات میں امیدواروں کو انگریزی کے ساتھ دیگر زبانوں میں امتحان دینے کے مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کی کئی کامیاب اقوام نے اپنی زبانوں میں علم اور تحقیق کو فروغ دے کر ترقی کی۔ پاکستان میں بھی ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں زبان رکاوٹ نہیں بلکہ علم، تخلیق اور شناخت کی طاقت بنے۔ملاقات کے دوران جامعہ رشیدیہ کے مالیاتی فنڈ کے قیام کی تجویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔حکومت کی جاری تعلیمی، نصابی اور سول سروس اصلاحات اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہیں، جس کے تحت پاکستان کو ایک علم پر مبنی، باکردار اور تخلیقی معاشرے میں تبدیل کیا جا سکے۔