وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے اہم سیاسی وسماجی شخصیات کے مختلف وفود کی ملاقات،نئے صوبوں کی تشکیل سمیت اہم سیاسی و انتظامی امور پر تبادلۂ خیال
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے اہم سیاسی وسماجی شخصیات کے مختلف وفود کی ملاقات،نئے صوبوں کی تشکیل سمیت اہم سیاسی و انتظامی امور پر تبادلۂ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اور صدر استحکامِ پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان سے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے مختلف وفود نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جنوبی پنجاب کے عوام کو درپیش مسائل، خطے کی ترقی اور نئے صوبوں کی تشکیل سمیت اہم سیاسی و انتظامی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفود نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے عبدالعلیم خان کے دوٹوک، اصولی اور مسلسل مؤقف کو سراہتے ہوئے ان کی سیاسی جدوجہد اور جنوبی پنجاب کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے رابطہ مہم مزید تیز کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ہم خیال سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بہاولپور اور ملتان کے بعد ہزارہ کا بھی دورہ کیا جائے گا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ "نئے صوبے، نیا نظام” کے نعرے کو اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پہلے ہی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے اور رائے عامہ بھی اس معاملے پر کافی حد تک ہموار ہو چکی ہے۔صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے بغیر موجودہ نظام کی خامیاں دور نہیں کی جا سکتیں۔
اگر عوام کے مسائل حقیقی معنوں میں حل کرنے ہیں تو نئے صوبے ہر صورت بنانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں متعدد سیاسی رہنماؤں نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا صرف نعرہ لگایا، تاہم عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ انہوں نے ایمانداری اور ملکی مفاد میں نئے صوبوں کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور رابطہ مہم جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کی مخالفت کی اصل وجہ عوامی مفاد نہیں بلکہ بعض حلقوں کی "چوہدراہٹ” ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات سے قبل نئے صوبوں کے قیام کی باتیں کرنے والے انتخابات کے بعد ساڑھے چار سال تک اس اہم معاملے کا ذکر تک نہیں کرتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ محض نعروں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ جلد ملتان اور بہاولپور کا دورہ کریں گے، جبکہ جنوبی پنجاب کے لیے ملتان میں استحکام پاکستان پارٹی کا مرکزی دفتر قائم کرنے اور سیاسی سرگرمیوں کو مزید منظم و فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
عبدالعلیم خان نے کہاکہ موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے،جب تک ہم تبدیلی کے لیے خود کو تیار نہیں کریں گے، حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ملاقات کرنے والے وفود نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کو مبارکباد بھی دی اور نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے ان کے واضح اور دوٹوک مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ملاقات میں استحکام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود اور صوبائی صدر رانا نذیر احمد خان سمیت دیگر رہنما بھی شریک تھے۔








