وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ازبکستان شوکت مرزیایوف سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نے ازبکستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام …

بشکیک ۔31اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نے ازبکستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نے صدر شوکت مرزیایوف اور برادر ملک ازبکستان کے عوام کو ازبکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔وزیر اعظم نے فروری 2026ء میں صدر مرزیایوف کے دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے اور اعلیٰ سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار فراہم کی ہے۔وزیر اعظم نے قیادت کی سطح پر کیے گئے فیصلوں خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے 2029ء تک دوطرفہ تجارت کا حجم 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کرتے ہوئے توسیع شدہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر موثر عملدرآمد، کاروباری سطح پر روابط میں اضافے اور باہمی مفاد پر مبنی مشترکہ منصوبوں کے فروغ کی اہمیت کا ذکر کیا۔

علاقائی رابطوں کو مشترکہ سٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت اجاگر کی جو وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم منسلک کرنے اور ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی پر جلد پیش رفت اور پہلے سے موجود کثیر جہتی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ وزیراعظم نے ازبک تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔دونوں رہنمائوں نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم نے فضائی رابطوں میں اضافے بالخصوص تاشقند-کراچی براہ راست پروازوں کے حوالے سے پیش رفت کی بھی حمایت کی۔وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی آئندہ پاکستان کی صدارت کے لیے ازبکستان کی حمایت کو سراہا اور علاقائی سلامتی، رابطوں، تجارت اور پائیدار ترقی کے لیے ازبکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) اور دیگر کثیرالجہتی فورمز میں بھی مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے ازبکستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔ملاقات میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

مزید خبریں