ایس سی او مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن کے حوالے سے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ایس سی او سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کو عالمی امن و استحکام کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس سی او مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے،

بشکیک۔1ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کو عالمی امن و استحکام کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس سی او مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے،

پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے،ہم تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کی رہنما ہدایات پر سختی سے عمل پیرا رہنے کے لیے پُرعزم ہیں،پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے موثر کردار ادا کیا ہے،مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہے،پاکستان پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر حملوں، بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، خطہ میں کبھی امن قائم نہیں ہو گا،بین الاقوامی برادری کو فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کو ان کے حقِ خود ارادیت کے بنیادی حق کے حصول میں مدد دینے کے اپنے عزم کو پورا کرنا چاہیئے، پانی ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے،اسے کبھی ہتھیار کے طور پراستعمال نہیں کیا جانا چاہیئے،پاکستان سماجی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور ایس سی او خطے میں جامع اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بشکیک کے خوبصورت شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کے تاریخی اجلاس میں شرکت ان کے لیے باعث اعزاز ہے اور پر خلوص میزبانی اور کانفرنس کے لیے شاندار انتظامات پر صدر صادر ژاپاروف اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جمہوریہ کرغزستان کو ایس سی او چیئرمین شپ کی مدت کی کامیابی سے تکمیل اور ایس سی او ممالک کے درمیان عملی تعاون کے لئے موثر کردار پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کرغزستان اور ازبکستان کی قیادت اور عوام کو ان کے یوم آزادی کی بھی دلی مبارک باد دی ۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم عالمی امن استحکام کے لیے اہم پلیٹ فارم ہے، شنگھائی سپرٹ کے تحت پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہونے پر فخر ہے،پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے،ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگ میل ہے، ایک ننھے پودے سے شروع ہونے والی ایس سی او آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ہم سب کو سلامتی اور استحکام کا سایہ فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت کے انتشار، موسمیاتی بحرانوں میں اضافے اور ٹیکنالوجی کی بے مثال تبدیلیوں سے دوچار ہے،ایسے پیچیدہ ماحول میں ایس سی او ان بڑے چیلنجز سے مل کر نمٹنے اور اپنے عوام کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے ہمارے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور ایس سی او کے چارٹرز کے بنیادی اصولوں کو ہمیشہ برقرار رکھتا اور ان کا احترام کرتا ہے، ہم تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق، اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کی رہنما ہدایات پر سختی سے عمل پیرا رہنے کے لیے پُرعزم ہیں، جس کی آج بشکیک اعلامیے میں بھی توثیق کی گئی ہے،اسی جذبے کے تحت پاکستان نے رواں سال کے اوائل میں اس وقت امن کی بھرپور حمایت کی جب ایک ایس سی او رکن ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک بڑا علاقائی بحران پیدا ہوا،اس بحران کے باعث توانائی کی فراہمی کے اہم راستوں کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

نتیجتاً پاکستان نے بھی عالمی برادری کے ساتھ مل کر بھاری اقتصادی قیمت ادا کی ہےان مشکل حالات میں پاکستان نے مسلسل ایک ایماندار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری مسلسل سفارتی کوششیں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جو علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے،جیسے جیسے ہماری امن کے قیام کی کوششیں جاری ہیں ہم ان برادر اور دوست ممالک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن میں سے بہت سے ممالک کے نمائندے آج یہاں موجود ہیں جنہوں نے اس کوشش کے دوران اپنی غیر متزلزل حمایت فراہم کی ہمارا پختہ یقین ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ہمارے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سب سے قابلِ عمل اور دیرپا راستہ فراہم کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں سہہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں یہ تاریخی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہےیہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور نہ تو کسی ریاست کے خلاف ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی قسم کی محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں کی ہیں تاہم، کثیرالجہتی تنظیموں کو اس قابل بنانا ضروری ہے کہ وہ امنگوں اور خواہشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کر سکیں،غزہ اور مغربی کنارے کے بے گناہ عوام کی حالتِ زار بدستور جاری ہے، جو ناقابلِ تصور انسانی تکالیف کا باعث بن رہی ہے، فلسطینی مائیں اپنے بچوں کے غم میں گہرے صدمے سے دوچار ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، اور پوری نسلیں خوف، محرومی اور ناانصافی کے مستقل سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بین الاقوامی برادری کو فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کو ان کے حقِ خود ارادیت کے بنیادی حق کے حصول میں مدد دینے کے اپنے عزم کو پورا کرنا چاہیئے، دنیا کو انسانی دکھ اور تکالیف کے خاتمے کے لیے، اس بات سے قطع نظر کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں، متحد ہونا چاہیئے،جنوبی ایشیا جو ایس سی او خطے کا ایک اہم حصہ ہے پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی کی بنیاد ہے یہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتا ہے، ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے،اسے کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے، اسے نہ تو دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کبھی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے،ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ، پابند اور بین الاقوامی وعدے ہیں، یہ سیاسی مصلحتوں کے معاملات نہیں کہ جنہیں اپنی مرضی سے کسی بھی وقت نظر انداز کر دیا جائے، ان کی ہر صورت میں، لفظ اور روح دونوں کے مطابق، غیر مشروط طور پر پاسداری کی جانی چاہیئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی اپنی مختلف شکلوں اور مظاہر کے ساتھ ہمارے پورے خطے کو متاثر کرنے والے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے،گزشتہ سال سے شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کے طور پر پاکستان نے علاقائی انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور اور فعال کردار ادا کیا ہے،چند ہی ممالک نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف پاکستان جیسی پُرعزم اور بہادری کے ساتھ جنگ لڑی ہے،گزشتہ اڑھائی دہائیوں کے دوران ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سےزیادہ جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور 150 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کیے ہیں،یہ قربانیاں صرف پاکستان کے لیے نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد ایک محفوظ اور زیادہ پُرامن خطے، اور اس سے آگے کی دنیا کو یقینی بنانا تھا۔پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہےلیکن جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر حملوں، بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، خطہ کبھی امن نہیں دیکھ سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں تین ارب سے زیادہ افراد آباد ہیں اور یہ خطہ وافر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے یہ غیر معمولی صلاحیت ہم ایس سی او کے رہنماؤں پر ایک غیر معمولی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے کہ ہم اپنے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کریں،میں برسوں سے علاقائی روابط کو ہماری خوشحالی کی کلید کے طور پر بھرپور انداز میں اجاگر کرتا رہا ہوں،آج رابطہ سازی اب کوئی انتخاب نہیں رہی بلکہ یہ ایک تزویراتی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے،حالیہ بحران نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ متنوع نقل و حمل کے نیٹ ورکس، محفوظ توانائی راہداریاں اور مضبوط و مستحکم سپلائی چینز ہماری اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بدستور ایک اہم گیٹ وے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے، جو علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے،ہم موجودہ بین العلاقائی ریلوے منصوبوں، سڑکوں کے رابطوں سے متعلق اقدامات اور علاقائی توانائی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے بھی یکساں طور پر پُرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی تمام توانائیاں ’’ایس سی او ترقیاتی حکمتِ عملی برائے 2035‘‘ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے صرف کرنی چاہئیں،ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کا قیام اس حوالے سے ایک اہم اور فیصلہ کن قدم ہوگا،غربت کے خاتمے سے متعلق ایس سی او کے خصوصی ورکنگ گروپ کے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے، پاکستان سماجی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور ایس سی او خطے میں جامع اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے ہی پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال رہا ہے، ہم ایک ’’ایکشن پلان‘‘ تجویز کر رہے ہیں، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی و غربت میں کمی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت، ثقافت اور کھیلوں سمیت اہم شعبوں کو ترجیح دی جائے گی،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں، ہم ذمہ دارانہ اور جامع مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینے، ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانے، تحقیق اور جدت طرازی کو فروغ دینے، اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے، ایک ’’ایس سی او سوورین اے آئی انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ خطے بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے رابطہ کاری، پیشگی انتباہ اور امدادی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان نے اسلام آباد میں 2026-2027 کے دوران ’’گلوبل ریزیلینس ایکسپو‘‘ کے انعقاد کی تجویز دی ہے،ایس سی او کی پاکستان کی صدارت کا مرکزی موضوع ہوگا،’’وژن کو عمل میں بدلنا: روابط، جدت طرازی اور مشترکہ خوشحالی‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس ذمہ داری کو عاجزی، امید اور اس پختہ یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ روابط ہمارے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لائیں گے، جدت طرازی مواقع کے نئے دروازے کھولے گی، اور مشترکہ خوشحالی ہر گھر تک پہنچے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئیے مل کر ایس سی او کے وژن کو عملی اقدام، اس کے وعدے کو ترقی، اور اس کی ترقی کو سب کے لیے ایک بہتر مستقبل میں تبدیل کریں جیسا کہ ایک قدیم دانائی کی کہاوت ہے، بہت سے چشمے مل کر ایک عظیم دریا بناتے ہیں اسی طرح جب ہماری قومیں اپنی طاقتوں، امنگوں اور تقدیروں کو یکجا کرتی ہیں تو اس بات کی کوئی حد نہیں رہتی کہ ہم کتنی دور تک جا سکتے ہیں لہٰذا آئیے ہم عزم کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں کہ غیر یقینی کے اس دور میں تاریخ ایس سی او کو یوں یاد رکھے گی کہ اس نے تصادم پر تعاون، تقسیم پر مکالمے، رکاوٹوں پر پلوں اور خوف پر امید کو ترجیح دی،تاریخ یہ بھی رقم کرے کہ ایس سی او نے محض ایک بدلتی ہوئی دنیا کا مشاہدہ نہیں کیا، بلکہ ہم نے اس دنیا کو تشکیل دینے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

مزید خبریں