مکہ معاہدہ خطے میں امن، اجتماعی سلامتی اور مسلم اتحاد کو مضبوط کرے گا، طاہر محمود اشرفی

پاکستان علما ء کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کو ادارہ جاتی شکل دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن، اجتماعی سلامتی اور مسلم اتحاد کے لئے ایک تاریخی اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):پاکستان علما ء کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کو ادارہ جاتی شکل دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن، اجتماعی سلامتی اور مسلم اتحاد کے لئے ایک تاریخی اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

منگل کو اپنے ایک بیان میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے بالخصوص ریاض میں مکہ معاہدہ سیکرٹریٹ کے قیام اور ابتدائی طور پر تین سال کے لئے پاکستان سے سیکرٹری جنرل کی تعیناتی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ عزم کو عملی اور مستقل تعاون میں تبدیل کرنے کے لئے مؤثر ادارہ جاتی نظام قائم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس تاریخی اقدام کے پس منظر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وژن نمایاں ہے جبکہ صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی اس فریم ورک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ’’مکہ معاہدہ تصادم نہیں بلکہ امن کے لئے طاقت کا پیغام ہے، اس کی ادارہ جاتی تشکیل خطے میں استحکام، تحمل، اجتماعی سلامتی اور تنازعات کے پُرامن حل کو فروغ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار، تربیت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون نہ صرف اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں بھی وسیع تر تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔چیئرمین پاکستان علما ء کونسل نے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم دنیا کے لئے بھی ایک وسیع تر مثبت پیغام رکھتا ہے کہ اتحاد، اجتماعی قوت اور ادارہ جاتی تعاون کو امن، استحکام اور جائز قومی مفادات کے تحفظ کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ نیا نظام پاکستان اور سعودی عرب کی تاریخی و سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط، پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو مزید گہرا اور خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

مزید خبریں