قائد حریت سید علی گیلانی کی پانچویں برسی آج منائی گئی، اگست 2019 سے اب تک بھارتی فورسز نے 1069 کشمیریوں کو شہید کیا
قائد حریت سید علی گیلانی کی پانچویں برسی آج منائی گئی، اگست 2019 سے اب تک بھارتی فورسز نے 1069 کشمیریوں کو شہید کیا

مزید خبریں
سرینگر۔1ستمبر (اے پی پی):کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما سید علی گیلانی کی پانچویں برسی آج اس عزم کی تجدید کیساتھ منائی کہ انکے مشن کو ہر قیمت پر پایہ ءتکمیل تک پہنچایا جائے گا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی یکم ستمبر 2021 کو حیدر پورہ سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بندی کے دوران داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے جہاں بھارت نے انہیں ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل نظر بند کر رکھا تھا۔حریت کارکنوں نے سوپور میں منعقدہ ایک تقریب میں مزاحمتی رہنما کی عظیم قربانیوں اور گرانقدر کردار کو اجاگر کیا۔ بھارتی حکام نے لوگوں کو فاتحہ خوانی سے روکنے کے لیے حیدر پورہ میں سید علی گیلانی کی قبر کے اردگرد فورسز اہلکار تعینات کر دئیے تھے۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف مبذول کرانے کے لیے ریلیاں نکال رہے ہیں۔
ادھر اسلام آباد اور مظفرآباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے زیر اہتمام کانفرنسوں میں مقررین نے شہید رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی کی طویل جدوجہد کوصدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کا نعرہ، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” کشمیر یوں کے لیے ان کے وژن کی ایک مضبوط علامت ہے۔ بھارتی فورسز نے اگست 2019میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے بعد سے گزشتہ سات سال میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 1069کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج، راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، سپیشل آپریشن گروپ اور تحقیقاتی اداروں نے محاصرے اور تلاشی کی 25ہزار649کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 37ہزار783 شہریوں کو گرفتار کیا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے پرامن کشمیریوں کے خلاف آنسو گیس ، گولیوں اور پیلٹ گن سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم از کم 2708 افراد زخمی ہوئے۔
صرف رواں سال کے پہلے 8ماہ میں 21کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ محاصرے اور تلاشی کی 1747 کارروائیوں کے دوران 4704 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا۔ قابض حکومت نے اس عرصے کے دوران 273جائیدادیں بھی ضبط کیں ۔ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور آسیہ اندرابی سمیت ہزاروں کشمیری بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں مسلسل نظربند ہیں۔
دریں اثناءکٹھوعہ کے رہائشیوں نے فصلوں کے مسلسل نقصان اور طاقتور حلقوں کے حمایت یافتہ قبضہ مافیا کی طرف سے تشددکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جموں-پٹھانکوٹ ہائی وے کو بند کر دیا۔سانبہ میں لوگوں نے سانبہ مانسر روڈ کی خستہ حالی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک سڑک بند کردی۔ راجوری میں لوگوں نے کشتواڑ میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے واقعے کے خلاف احتجاج کیلئے مشعل بردار ریلی نکالی اور متاثرہ خاندان کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا ۔








