موسمیاتی تبدیلی سے عالمی نقصانات سالانہ 450 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان
موسمیاتی تبدیلی سے عالمی نقصانات سالانہ 450 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

مزید خبریں
لندن۔1ستمبر (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے باعث دنیا کو آنے والے برسوں میں ایک معمول کے سال کے دوران تقریباً 450 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے جبکہ شدید تباہی کی صورت میں یہ نقصان مزید بڑھنے کا امکان ہے۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے امریکی تجزیاتی کمپنی ‘ویرسک اینالیٹکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ قدرتی آفات سے ہونے والے عالمی نقصانات جن کی اوسط مالیت تقریباً 279 ارب ڈالر ہے ، کا 62 فیصد تک حصہ بیمہ شدہ نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق دو سال قبل قدرتی آفات جن میں بڑھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان بھی شامل ہے، سے ہونے والے عالمی نقصانات کا حجم 320 ارب ڈالر تھا۔ بڑھتے ہوئے نقصانات موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری جانب تباہ کن خطرات سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے نقصانات کے باعث انشورنس صنعت مجموعی اندازے کے مطابق ہونے والے نقصان کے مقابلے میں مسلسل کم حصہ پورا کر رہی ہے۔
بڑی انشورنس کمپنیوں نے بھی بعض علاقوں میں اپنی خدمات مکمل طور پر محدود کر دی ہیں اور ایسے علاقوں میں انشورنس پالیسیوں کی تجدید سے انکار کیا ہے جہاں خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ویریسک اینالیٹکس کے مطابق مارچ 2025 میں میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے تقریباً 12 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، تاہم انشورنس کمپنیوں نے اس نقصان میں سے 100 ملین ڈالر سے بھی کم رقم کا احاطہ کیا۔اسی طرح جولائی 2025 میں امریکی ریاست ٹیکساس میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 1.1 ارب ڈالر لگایا گیا جبکہ اس سیلاب کے نتیجے میں 130 افراد جاں بحق ہوئے۔








