پاکستان سمیت دنیا بھر میں فلک بوس عمارتوں کا عالمی دن جمعرات کو منایا گیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں فلک بوس عمارتوں کا عالمی دن جمعرات کو منایا گیا

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں فلک بوس عمارتوں کا عالمی دن (اسکائی اسکریپر ڈے )جمعرات 3 ستمبر کو منایا گیا۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں موجود فلک بوس عمارتوں، فنِ تعمیر اور انجینئرنگ کے حیرت انگیز شاہکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

3 اس دن کو منانے کیلئے 3 ستمبر کی تاریخ کا انتخاب مشہور امریکی آرکیٹیکٹ لوئس ایچ سلیوان (Louis H. Sullivan) کی تاریخِ پیدائش (3 ستمبر 1856) کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔

انہیں دنیا بھر میں "فلک بوس عمارتوں کا باپ تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے جدید بلند بالا عمارتوں کے ڈیزائن کی بنیاد رکھی تھی۔واضح رہے کہ دبئی میں واقع برج خلیفہ اس وقت دنیا کا سب سے اونچا اسکائی اسکریپر ہے، جس کی بلندی 828 میٹر (2,717 فٹ) ہے اور اس کی 163 منزلیں ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ فلک بوس عمارتیں ہانگ کانگ میں ہیں جن کی تعداد 560 سے زیادہ ہے۔

دنیا کی پہلی فلک بوس عمارت 1885 میں شکاگو میں تعمیر کی گئی تھی جسے ’’ہوم انشورنس بلڈنگ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ صرف 10 منزلہ بلند عمارت تھی۔ آج کے دور میں کسی بھی عمارت کو اسکائی اسکریپر کہلانے کے لیے کم از کم 150 میٹر (492 فٹ) بلند یا کم از کم 40 منزلوں پر مشتمل ہونا ضروری ہے۔ فلک بوس عمارتوں کےعالمی دن کی مناسبت سے مختلف تقاریب میں بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر کے حوالہ سے کردار کی حامل شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔