نافسا کا پاکستان کے زرعی ادویات اور ایگرو کیمیکلز کے شعبے کے نمائندوں کے ساتھ ابتدائی مشاورتی اجلاس
نافسا کا پاکستان کے زرعی ادویات اور ایگرو کیمیکلز کے شعبے کے نمائندوں کے ساتھ ابتدائی مشاورتی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (نافسا)نے اسلام آباد میں پاکستان کے زرعی ادویات اور ایگرو کیمیکلز کے شعبے سے وابستہ افراد کے ساتھ جمعرات کو مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، نافسا کے بورڈ آف گورنرز، پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن (پی سی پی اے)، کراپ لائف، زرعی ادویات بنانے اور درآمد کرنے والی کمپنیوں، لیبارٹریز، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔نافسا ایکٹ 2026 کے تحت متعارف کرایا جانے والا نیا قانونی نظام، زرعی ادویات آرڈیننس 1971 اور زرعی ادویات رولز 1973 کے موجودہ ضابطہ کار کی جگہ لے گا۔نئے نظام کے تحت زرعی ادویات کی رجسٹریشن، درآمد و برآمد، تیاری اور فارمولیشن، ڈیلرز کے لائسنس، پیکنگ اور لیبلنگ، ذخیرہ اور حفاظت، حیاتیاتی زرعی ادویات، لیبارٹری ٹیسٹنگ، معائنوں اور شکایات کے ازالے کے لیے جدید، شفاف اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران نافسا کے انتظامی ڈھانچے اور طریقہ کار، سائنسی بنیادوں پر خطرات کے جائزے اور معیار کے تعین، بین الاقوامی معیار کے مطابق ریگولیٹری نظام کی بہتری اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے ذریعے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد، تجارت میں سہولت اور مصنوعات کی نگرانی بہتر بنانے، پاکستانی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، رجسٹریشن اور تجدید کے فیصلوں کے لیے مقررہ مدت، حیاتیاتی زرعی ادویات کی رجسٹریشن کے لیے الگ طریقہ کار اور شکایات و اپیلوں کے باقاعدہ نظام پر بھی بات کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ تحفظ نباتات کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عمل 31 اکتوبر 2026ء تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔اس حکمت عملی کے تحت رجسٹریشن کے عمل کو مقررہ مدت اور مکمل ڈیجیٹل نظام کے ذریعے زیادہ قابل پیش گوئی بنایا جائے گا۔
نظام میں زرعی ادویات کے استعمال کو خوراک کی حفاظت سے بھی جوڑا جائے گا جس میں ادویات کی باقیات کی زیادہ سے زیادہ قابل اجازت حد، باقیات کی نگرانی اور فارم سے بندرگاہ تک مصنوعات کی نگرانی شامل ہوگی۔ اس کا مقصد پاکستان کی زرعی برآمدات کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔نافسا کی حکمت عملی میں درآمدی متبادل کے بجائے برآمدات پر توجہ مرکوز کرنے کا بھی منصوبہ شامل ہے۔ اس کے تحت برآمد کے لیے رجسٹریشن، برآمدی مقاصد کے لیے فارمولیشن کی سہولت اور پاکستان کو ایگرو کیمیکلز اور زرعی ادویات کی تیاری اور دوبارہ برآمد کے علاقائی مرکز کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
نافسا کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین احمد عمیر نے کہا کہ نافسا کا قیام پاکستان کے خوراک کی حفاظت اور زرعی تجارت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایگرو کیمیکلز اور زرعی ادویات کے لیے جدید، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر قائم ریگولیٹری نظام نہ صرف کسانوں اور صارفین کا تحفظ کرے گا بلکہ پاکستان کو بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور زرعی برآمدات بڑھانے میں بھی مدد دے گا۔ نافسا کی جانب منتقلی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ خوراک کی حفاظت اور تجارت دونوں کو سہارا دینے کے لیے ایک زیادہ موثر اور جواب دہ نظام قائم کیا جائے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نافسا کے ڈائریکٹر جنرل محمد عمران خان مہمند نے کہا کہ نافسا ایک ایسا ریگولیٹری نظام قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو شفاف، قابلِ پیش گوئی اور تمام متعلقہ فریقوں کی ضروریات کے مطابق ہو۔ ہماری توجہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے طریقہ کار کو آسان بنانے، خدمات کی فراہمی کے لیے واضح مدت مقرر کرنے، خطرات کی بنیاد پر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور سپلائی چین میں مؤثر نگرانی یقینی بنانے پر ہے۔ ہم صنعت، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر اس منتقلی کو آسان بنانا چاہتے ہیں اور ایسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو خوراک کی حفاظت، جدت اور پاکستان کی برآمدی خواہشات کو فروغ دے۔
پی سی پی اے اور کراپ لائف سمیت مختلف متعلقہ فریقوں نے نئے نظام کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کیں۔ان تجاویز میں رجسٹریشن کے طریقہ کار، آزمائشی اعداد و شمار کی ضروریات، تکنیکی درجے کی مصنوعات کی رجسٹریشن، صرف برآمدات کے لیے رجسٹریشن، شپمنٹ سے پہلے اور بعد کے معائنے، لیبلنگ اور تشہیر، اور حیاتیاتی زرعی ادویات سے متعلق نظام شامل تھے۔نافسا نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کے قومی زرعی تجارت اور خوراک کی حفاظت کے نگران ادارے کے طور پر وہ شفافیت اور تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت پر مبنی نظام کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔








