ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان میں کاروباری اور برآمدی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔
پاکستانی کھجور کی عالمی منڈیوں تک رسائی، متنوع اقسام اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان میں کاروباری اور برآمدی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔
پاکستانی کھجور اپنی متنوع اقسام، ذائقے اور معیار کے باعث عالمی مارکیٹ میں نمایاں برآمدی صلاحیت رکھتی ہے۔ عسیل، ڈھکی، بیگم جنگی، کُپرو اور مزواتی سمیت کھجور کی متعدد اقسام عالمی صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کاشت ہونے والی کھجوریں پاکستان کی زرعی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ عالمی طلب میں اضافے کے پیش نظر پاکستانی کھجور کی برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔معیاری پیداوار، جدید پیکیجنگ، ویلیو ایڈیشن اور بہتر برآمدی نظام کے ذریعے پاکستانی کھجور عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت مزید مضبوط کر سکتی ہے۔
ایس آئی ایف سی کے حکومتی سطح پر مربوط اقدامات سے کاروباری ماحول اور برآمدی شعبوں میں سہولت کاری کو فروغ مل رہا ہے، جس سے پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی آسان ہو رہی ہے۔پاکستانی کھجور کی برآمدات میں اضافہ نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں معاون ہے بلکہ دیہی معیشت، کسانوں کی آمدن اور زرعی شعبے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔








