اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ آئندہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں UN80 اقدام کے تحت اصلاحات کے عمل کومزید آگے بڑھائیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا رکن ممالک کو آئندہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں UN80 اقدام کے تحت اصلاحات کے عمل کومزید آگے بڑھانے پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔4ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ آئندہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں UN80 اقدام کے تحت اصلاحات کے عمل کومزید آگے بڑھائیں۔
شنہوا کے مطابق انتونیوگوتریش نے UN80 کے بارے میں جنرل اسمبلی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ’’جب ہم 81ویں اجلاس کی جانب بڑھ رہے ہیں، تو میں رکن ممالک پر زور دیتا ہوں کہ وہ صرف UN80 کی رفتار کو برقرار نہ رکھیں بلکہ اسے مزید آگے بڑھائیں۔‘‘ UN80 اقوام متحدہ کے پورے نظام میں اصلاحات کی ایک کوشش ہے، جس کا آغاز انہوں نے مارچ 2025 میں عالمی ادارے کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر کیا تھا۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’’80 سال پہلے ہمارے پیش روؤں نے اقوام متحدہ قائم کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک مشکل دنیا ایسے اداروں کا تقاضا کرتی ہے جو حالات کے مطابق موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اب یہ ذمہ داری ہماری ہے۔
ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ کو اس سے زیادہ مضبوط حالت میں آنے والی نسلوں کے حوالے کریں جس حالت میں ہمیں ملا تھا،ایسا ادارہ جو اپنے کام میں زیادہ مربوط ہو، اپنے وسائل کے استعمال میں زیادہ منظم اور ذمہ دار ہو، اور اپنے نام پر کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو۔انہوں نے کہا کہ UN80 کے پہلے مرحلے میں اصلاحات کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں ان امکانات کو آزمایا گیا، شواہد جمع کیے گئے اور عملی راستے متعین کیے گئے۔ اب یہ اقدام تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ UN80 کے تین اہم شعبوں اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں کارکردگی اور وسائل کے موثر استعمال میں بہتری، مختلف مینڈیٹس پر عمل درآمد کا جائزہ اور ادارہ جاتی و پروگراماتی ڈھانچے میں ازسرِنو ترتیب کے حوالے سے آئندہ کی سمت اب زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔
انتونیوگوتریش نے کہا کہ ’’جب میں نے UN80 کا آغاز کیا تھا تو میں نے ذمہ داری کی بات کی تھی۔ آج میں دوبارہ اسی لفظ کا اعادہ کر رہا ہوں، کیونکہ بالآخر یہی ذمہ داری طے کرے گی کہ یہ اقدام کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ UN80 کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ آنے والے سالوں میں یہ ادارہ آج رکن ممالک کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کے نتیجے میں مختلف انداز میں کام کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا بھر کے عوام ایک ایسے اقوام متحدہ کو دیکھیں جو زیادہ تیزی اور موثر انداز میں ردِعمل دے، زیادہ مربوط طریقے سے کام کرے اور زیادہ موثر نتائج فراہم کرے۔








