وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور عالمی امور میں اقوام متحدہ کے موثر کردار کی بھرپور اور مستقل حمایت جاری رکھے گا،موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کثیرالجہتی نظام اور عالمی امور میں اقوام متحدہ کے موثر کردار کی حمایت جاری رکھے گا، وزیراعظم شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور عالمی امور میں اقوام متحدہ کے موثر کردار کی بھرپور اور مستقل حمایت جاری رکھے گا،موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو سے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی۔ اس موقع پر یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور یوگنڈا کے سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد سے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور عالمی امور میں اقوام متحدہ کے موثر کردار کی بھرپور اور مستقل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے تین بنیادی ستونوں امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق پر باہم مربوط اور متوازن انداز میں توجہ مرکوز رکھیں گے۔ اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور اقوام متحدہ کے تینوں بنیادی ستونوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ اور نمایاں خدمات پر تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی قیادت اور اہم کردار کو بھی سراہا۔







