اقوام متحدہ نے دنیا کے نقشے پر براعظموں کی درست نمائندگی کے لیے قرارداد منظور کر لی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشوں پر براعظموں کے درست اور متوازن حجم کی عکاسی کے لیے نئی قرارداد منظور کر لی۔امارتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک نئی قرارداد منظور کی ہے جس میں دنیا کے نقشوں پر براعظموں، خصوصاً افریقہ، کے باہمی حجم کی زیادہ درست اور متوازن عکاسی پر زور دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ ۔5ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشوں پر براعظموں کے درست اور متوازن حجم کی عکاسی کے لیے نئی قرارداد منظور کر لی۔امارتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک نئی قرارداد منظور کی ہے جس میں دنیا کے نقشوں پر براعظموں، خصوصاً افریقہ، کے باہمی حجم کی زیادہ درست اور متوازن عکاسی پر زور دیا گیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد نقشہ سازی میں تاریخی طور پر پیدا ہونے والی بعض غلط نمائندگیوں کا ازالہ کرنا ہے۔گزشتہ روز ہونے والی ریکارڈ شدہ ووٹنگ میں 107 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد میں عالمی نقشہ سازی کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے بعض نقشہ جاتی طریقے، خصوصاً مرکیٹر پروجیکشن ، خطِ استوا سے دور علاقوں کے حجم کو نسبتاً مسخ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں افریقہ اور عالمی جنوب کے دیگر حصے اپنے حقیقی رقبے سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 16ویں صدی میں سمندری سفر اور جہاز رانی کے لیے تیار کیا گیا مرکیٹر پروجیکشن، زمین کے رقبوں کی نمائندگی میں موجود ان مسخ شدگیوں کے باوجود، تعلیمی، میڈیا، ڈیجیٹل اور سرکاری مواد میں اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

جنرل اسمبلی نے تسلیم کیا کہ یہ مسخ شدگیاں محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ براعظموں کے باہمی حجم کے بارے میں تعلیمی، ثقافتی، جغرافیائی سیاسی اور معاشی تصورات کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اسمبلی کے مطابق ان غلط نمائندگیوں کی اصلاح سے جغرافیہ کے بارے میں زیادہ درست فہم پیدا کرنے اور بعض تاریخی تعصبات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔قرارداد میں Equal Earth map projection کے استعمال کی حمایت کی گئی ہے، جو براعظمی زمینی رقبوں کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ رکن ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور متعلقہ اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ جہاں براعظموں کے حجم کی درست نمائندگی ضروری ہو وہاں مساوی رقبے والے نقشہ جاتی طریقوں کو اپنایا جائے۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کے اداروں، جن میں یونیسکو اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام اور گلوبل جیو سپیشل انفارمیشن مینجمنٹ سے متعلق اقوام متحدہ کی ماہرین کمیٹی شامل ہیں، سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افریقی یونین اور علمی و تحقیقی حلقوں کے ساتھ مل کر نقشہ سازی اور جغرافیائی معلومات کے شعبے میں زیادہ درست معیارات اور طریقہ کار وضع کریں۔قرارداد میں مزید ممالک کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ سکولوں کے نصاب میں نقشہ سازی کے اصولوں سے متعلق تنقیدی تعلیم کو شامل کریں اور تعلیمی و سائنسی اداروں اور میڈیا میں نقشہ سازی کے مختلف طریقوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تعصبات کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔

یہ قرارداد اس وقت منظور ہوئی جب افریقی ممالک کے ایک گروپ نے اگست میں اس کا مسودہ پیش کیا۔ یہ اقدام نقشوں، تعلیمی مواد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر افریقہ کی زیادہ درست نمائندگی کو یقینی بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔قرارداد میں روایتی اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے مرکیٹر پروجیکشنکے استعمال پر پابندی عائد نہیں کی گئی، اور نہ ہی ممالک کو ایکول ارتھ اپنانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ایکول ارتھ ایک جدید نقشہ جاتی طریقہ ہے جسے براعظموں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔