چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت، بہتر انفراسٹرکچر، مارکیٹ ریسرچ اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی پر فوری توجہ دینا ہوگی تا کہ دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی مسابقت پاکستانی قالینوں کے مارکیٹ شیئر کو مزید متاثر نہ کر سکے،امریکہ، …
امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی ٰمیں بڑھتی طلب قالینوں کی صنعت کےلئے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے، اعجاز الرحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت، بہتر انفراسٹرکچر، مارکیٹ ریسرچ اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی پر فوری توجہ دینا ہوگی تا کہ دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی مسابقت پاکستانی قالینوں کے مارکیٹ شیئر کو مزید متاثر نہ کر سکے،امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی ٰمیں بڑھتی طلب قالینوں کی صنعت کےلئے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو صنعت سے وابستہ شراکت داروں کے اجلاس میں عالمی منڈی میں پاکستانی قالینوں کے حجم کے حوالے سے حالیہ جائزے کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے عالمی قالین صنعت کا اہم حصہ رہا ہے تاہم گزشتہ کئی سال سے خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، پیداواری لاگت میں اضافہ، ہنرمند افرادی قوت کی کمی، کم پیداواری حجم، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کا فقدان صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
اعجاز الرحمان نے کہا کہ مشکلات کے باوجود امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی بڑھتی طلب پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے جس کے لئے غیر معمولی منصوبہ بندی نا گزیر ہے ،جدید ٹیکنالوجی، معیار میں بہتری، موثر مارکیٹنگ اور پاکستان کی روایتی قالین بافی کو عالمی طلب سے جوڑ کر اس صنعت کو دوبارہ مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع اور بروقت حکمت عملی کے ذریعے آئندہ سالوں میں پاکستانی قالینوں کی عالمی مارکیٹ میں پوزیشن بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔








