حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مضبوط دفاع کی بدولت پاکستان آج عالم اسلام کی نگاہوں کا مرکز ہے، جبکہ ملک کا دفاع، سلامتی اور استحکام قوم اور افواجِ پاکستان کی وحدت میں ہے۔
پاکستان مضبوط دفاع کی بدولت آج عالم اسلام کی نگاہوں کا مرکز ہے، قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کر تے ہیں ۔ طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
لاہور۔6ستمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی پاکستان حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان بلا شبہ مضبوط دفاع کی بدولت آج عالم اسلام کی نگاہوں کا مرکز ہے،پاکستان کا دفاع، سلامتی اور استحکام قوم اور افواجِ پاکستان کی وحدت میں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں دفاع پاکستان وتحفظ عقیدہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پرافواج پاکستان کے شہداکے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہیں اور ہمارے وہ جوان جو دہشت گردی کی جنگ میں دہشت گردی کا نشانہ بنے ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم فتنہ خوارج، فتنہ ہندوستان، دہشت گردی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی ہر سازش کے خلاف افواجِ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کر تے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارا دفاع آج ماضی کے مقابلہ میں زیادہ مضبوط ہے اورمعرکہ حق کے بعد دنیا ہمیں فاتح کے طور پر دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاع ، سلامتی اور یہ استحکام ہمیں شہدا اورغازیوں کی قربانیوں کے بدلے میں ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کی لازوال کوششوں کی بدولت عظیم مکہ دفاعی اتحاد قائم ہوا ،اللہ تعالی نے حریمین الشریفین کی حفاظت کی ذمہ داری ہمیں عطا کی ، اورسفارتی محاذ پر کامیابی کی وجہ سے ہی آج اسلام آباد کو لینڈ آف پیس کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو ہمارا امن ایک آنکھ نہیں بھا رہا اسی لیے دشمن نے بلوچستان میں فتنہ خوارج کو لانچ کیا ہے، کیونکہ دشمن یہ بات بخوبی جا نتاہے کہ یہ اب دہشت گردی کے خلاف ہماری آخری لڑائی ہے، جس میں انشااللہ اسی طرح ان قوتوں کو شکست ہوگی جیسے ماضی میں ان کودہشت گردی کی کوششوں میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ خوارج اورفتنہ ہندوستان کو مسلط کر نے والے جان لیں کہ ہم ہارنے والے نہیں ہیں، کیونکہ ہمارے شہدا کی مائیں روتی نہیں بلکہ ان کی شہادت پرمبارک باد وصول کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فوج اور قوم میں تقسیم پیدا کرنے والے اور شہدا ء کی لاشوں کو جلانے والے غدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام توجہاد میں بھی لاشوں کی بے حرمتی کر نے کی اجازت نہیں دیتا، لہذان خارجیوں کا اسلام سے کو ئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو معاشی اور داخلی طور پر مضبوط کیا جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت کو مل بیٹھ کر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلہ کر نا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستان زندہ باد کہنے والوں اور کشمیر زندہ باد کہنے والوں کے ساتھ آزاد کشمیر کی نئی حکومت کو بات چیت کرنی چاہیے۔







