ایل نینو، پاناما کینال سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں مزید کمی کا امکان

پاناما کینال اتھارٹی کی سربراہ ایلیا ایسپینو ڈی مروٹا نے کہا ہے کہ پاناما کینال سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد ایل نینو موسمی پیٹرن کے باعث پیدا ہونے والی خشک سالی کی وجہ سے مزید کم کی جا سکتی ہے۔

پاناما سٹی ۔8ستمبر (اے پی پی):پاناما کینال اتھارٹی کی سربراہ ایلیا ایسپینو ڈی مروٹا نے کہا ہے کہ پاناما کینال سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد ایل نینو موسمی پیٹرن کے باعث پیدا ہونے والی خشک سالی کی وجہ سے مزید کم کی جا سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر خشک سالی میں کمی نہ آئی تو مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس امکان کو مسترد نہیں کرتے کہ فروری یا مارچ میں ہمیں روزانہ گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد مزید کم کرنا پڑ سکتی ہے۔ غالباً یہ تعداد 24 جہاز روزانہ تک نہیں لائی جائے گی، تاہم اسے کم کرکے 29 یا اس کے قریب کیا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ پاناما نے ایل نینو کے باعث ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ یہ مظہر بحرالکاہل میں تشکیل پا رہا ہے اور دنیا بھر کے موسمیاتی نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

رواں سال ایل نینو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ریکارڈ کیے گئے تمام واقعات میں سب سے شدید ہونے کی توقع ہے۔ پاناما کینال جس سے عالمی بحری تجارت کا تقریباً 5 فیصد گزرتا ہے، نے پہلے ہی روزانہ گزرنے کی اجازت دی جانے والی بحری جہازوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کم کر دی ہے۔ گزشتہ ماہ روزانہ 36 جہازوں کے مقابلے میں یہ تعداد ستمبر کے وسط تک کم کرکے 32 کر دی جائے گی۔پاناما کینال بارش کے پانی سے کام کرتی ہے جو دو آبی ذخائر میں جمع ہوتا ہے، تاہم ایل نینو کے آغاز کے باعث ان ذخائر میں پانی کی سطح کم ہوگئی ہے۔پانی کے بغیر کینال کے وہ گیٹ سسٹم کام نہیں کر سکتے جو بحری جہازوں کو گزرگاہ کے آغاز اور اختتام پر اوپر اٹھانے اور نیچے اتارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔