وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لئے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے برآمدکنندگان کےلئےسپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فورم مہیا کیا گیا ہے جہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت …
وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات، برآمدکنندگان کےلئےسپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لئے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے برآمدکنندگان کےلئےسپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فورم مہیا کیا گیا ہے جہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔
منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔وفد کے اراکین میں میاں محمد منشاء، عارف حبیب، ثاقب شیرازی، عاطف باجوہ، محمد علی طبہ، مصدق ذوالقرنین، عمر سعید، صمد داؤد، اشرف موکاتی، شاہد صورتی، شہزاد اصغر، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، آصف پیر، عامر ابراہیم، جاوید بلوانی، صدیق بھٹی، فواد انور، خرم مختار اور یوسف حسین شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے حوالے سے مشاورت ہے۔وزیراعظم نے نے بجٹ سازی کے عمل کے دوران کاروباری برادری کی جانب سے پیش کردہ قیمتی تجاویز پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی متعدد تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری میں آسانی کے لئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، توانائی کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے بھی اقدامات جاری ہیں۔وزیراعظم نے حال ہی میں قائم کئے گئے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لئے ایک مضبوط اور مؤثر ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی کارکردگی اور دائرۂ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لئے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فورم مہیا کیا گیا ہے جہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری شعبے پر غیر ضروری ریگولیٹری بوجھ کم کرنے کے لئے ریگولیٹری گِلّوٹین پر کام جاری ہے، اس اقدام کا مقصد قواعد و ضوابط کو آسان بنانا، کمپلائنس لاگت کم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہل بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے ایک بڑا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے گزشتہ مالی سال میں 800 ارب روپے اکٹھے کئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم کی کوششوں کی بدولت ملک کے میکرو اکنامک حالات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر بہتری لانے کے لئے ہمیں مزید محنت کرنی ہے تاکہ معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افراد فراہم کئے جا سکیں۔وزیراعظم نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو برآمد کنندگان کے لئے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔وفد کو ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور کاروبار، تجارت اور صنعت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وفد کو بتایا گیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر پورٹ چارجز میں کمی لائی گئی ہے اور بندرگاہوں کی آپریشنل استعداد بہتر بنائی گئی ہے۔کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔ موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا۔ اسی طرح پاکستان ریلوے کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل مزید تیز ہو سکے گی۔ وفد کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات سے ملک کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وفد کو مزید بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
وفد کو بتایا گیا کہ ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ اور ان کاروباروں کے ملک کی برآمدی شعبے میں شمولیت کے لئے ہر ممکن اقدامات لئے جا رہے ہیں اور ایس ایم ایز کی فنانسنگ کے حوالےسے بھی ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔اجلاس میں کاروباری شخصیات اور صنعت کاروں نے ملک میں میکرو اکنامک استحکام کو سراہتے ہوئے حکومت کی معاشی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں خطے میں امن کے لئے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے کئے گئے مختلف معاشی اصلاحاتی اقدامات بالخصوص ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ، ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی، اور ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن کو سراہا۔ کاروباری برادری نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے کامیاب بانڈ اجرا کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے میکرو اکنامک استحکام اور پاکستان پر بڑھتے ہوئے کاروباری اعتماد کا مظہر ہے۔کاروباری شخصیات اور صنعت کاروں نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لئے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا
۔شرکاء نے حکومتی نجکاری اور ڈی ریگولیشن پالیسی کی بھی تعریف کی۔ وفد کے اراکین نے اپنے اپنے کاروبار اور صنعت کے شعبوں کے حوالےسے مسائل سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ ، سردار اویس لغاری، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیران محمد علی ، ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔








