قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل بااختیاری، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور زیادہ شفاف، موثر اور عوام دوست پارلیمانی نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں ایپلی کیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے کہا کہ سینیٹ موبائل …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل بااختیاری، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور زیادہ شفاف، موثر اور عوام دوست پارلیمانی نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں ایپلی کیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا اجراء 1973ء میں قیام کے بعد سینیٹ کے سفر میں ڈیجیٹل تبدیلی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض ایک موبائل ایپلی کیشن کے اجراء تک محدود نہیں بلکہ کام کرنے کے نئے انداز، سوچ کے نئے طریقہ کار اور عوام کی خدمت کے نئے اسلوب کا آغاز ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل اقدام سینیٹ اور اس کے ارکان کی کارکردگی اور امور کار پر دور رس اثرات مرتب کرے گا اور ایک ایسے جدید پارلیمانی ادارے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا جو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ اپنے طویل عوامی و سیاسی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پارلیمانی اور حکومتی امور بڑی حد تک روایتی اور دستی نظام کے تحت انجام دئیے جاتے تھے جس کے باعث عوامی خدمت کے بنیادی مقصد کے بجائے مختلف طریقہ کار میں خاصا ًوقت صرف ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ وقت گزر چکا، اب حالات بدل چکے ہیں اور ٹیکنالوجی و جدت کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن ایک تزویراتی تبدیلی اور اس عزم کا اظہار ہے کہ ایوانِ بالا جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گا۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ پہلے ہی ای آفس نظام کو کامیابی سے اپنا چکا ہے اور اس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔ موبائل ایپلی کیشن بھی سینیٹ کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ ہے جس کا مقصد وقت کی بچت، کارکردگی میں اضافہ اور غیر ضروری مراحل و دہرے پن کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن محض سہولت فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ ادارہ جاتی استعداد اور موثریت میں اضافے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمارے نظام مربوط اور موثر انداز میں کام کریں گے تو ہم اپنی آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کی انجام دہی پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں گے۔ قائم مقام صدر نے پارلیمان اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے میں ٹیکنالوجی کے کردار کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پارلیمانی سرگرمیوں کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، عوامی رائے اور آراء کے حصول میں مدد مل رہی ہے اور غلط معلومات کے تدارک میں بھی معاونت حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل آرکائیوز کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث مستند پارلیمانی معلومات ارکان پارلیمنٹ، محققین اور عوام کے لیے زیادہ آسانی سے دستیاب ہو رہی ہیں جس سے شفافیت میں اضافہ اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد مضبوط ہو رہا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کسی ایک اقدام تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔

انہوں نے نیل آرمسٹرانگ کے تاریخی الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سینیٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک چھوٹا قدم ہے لیکن جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ پارلیمانی جمہوریت کے لیے ایک بہت بڑی جست ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ جدت کو محض جدت کے لیے نہیں اپنانا چاہیے بلکہ اس کا مقصد جمہوریت کو زیادہ شفاف، موثر اور عوام کے قریب بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا اجراء ایک ایسے جدید، موثر اور عوام دوست ایوانِ بالا کی جانب قدم ہے جو پاکستان کے عوام کی خدمت زیادہ وقار اور موثریت کے ساتھ انجام دے سکے۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا اجراء ادارے کے پارلیمانی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور اس سے سینیٹ کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایپلی کیشن محض ایک نئی تکنیکی سہولت نہیں بلکہ سینیٹ کے داخلی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی قانون ساز اداروں کے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے اور پاکستان اس سفر میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، احتساب، بروقت کارروائی اور درست معلومات تک رسائی ایک مضبوط پارلیمانی نظام کی بنیادی ضروریات ہیں۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا اجراء پارلیمان کے طریقہ کار اور ارکان و عوام کے ساتھ روابط کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض ایک نئی ڈیجیٹل سہولت کا اجراء نہیں بلکہ پارلیمان کو زیادہ قابل رسائی، موثر اور عوام دوست بنانے کے وسیع تر ادارہ جاتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید پارلیمان کے لیے صرف اچھی قانون سازی کافی نہیں بلکہ ایسے جدید نظام بھی ضروری ہیں جن کے ذریعے پارلیمانی امور کو موثر انداز میں انجام دیا، منظم، ریکارڈ اور عوام تک پہنچایا جا سکے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور پارلیمان اور حکومت کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے، پارلیمانی کاروبار میں سہولت فراہم کرنے، شفافیت، رابطہ کاری اور موثر طرز حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے پارلیمان کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی سے ادارے کی کارکردگی، شفافیت اور عوامی ردعمل میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کے تین بنیادی پہلو ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل معاشرہ اور ڈیجیٹل طرز حکمرانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس کے تحت تمام سرکاری اور عوامی اداروں کی ڈیجیٹل تبدیلی حکومت کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ ہے۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ سال سینیٹ اور قومی اسمبلی سے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ منظور کیا گیا جس کے تحت پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اب صرف آئی ٹی کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ صحت، تعلیم، مالیات اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے نئے نظام تیزی سے تشکیل پا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سینیٹ کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں شمولیت اور ٹیکنالوجی کو طرز حکمرانی کا حصہ بنانا نہ صرف ادارے کی کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ کرے گا بلکہ سینیٹرز کو بھی بااختیار بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا اجراء صرف ایک ایپلی کیشن متعارف کرانے کا عمل نہیں بلکہ پارلیمانی ادارے کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن کے سفر کا حصہ ہے۔سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے شرکا کو سینیٹ آف پاکستان ایپ کے مقاصد اور خصوصیات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایپلی کیشن سینیٹ کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے تیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایپلی کیشن سینیٹ کے طریقہ کار کو جدید بنانے اور پارلیمانی معلومات کی زیادہ موثر اور بروقت فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔