وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت اجلاس ، آٹھ ماہ کے دوران موصول شدہ شکایات کا جائزہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں آٹھ ماہ کے دوران موصول شکایات اوران کے ازالے کا جائزہ لیا گیا، جنوری 2026 سےاگست 2026 تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار551 شکایات موصول ہوئیں، چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2026 سےاگست 2026 تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار551 شکایات موصول ہوئیں

پشاور۔ 09 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں آٹھ ماہ کے دوران موصول شکایات اوران کے ازالے کا جائزہ لیا گیا، جنوری 2026 سےاگست 2026 تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار551 شکایات موصول ہوئیں، چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2026 سےاگست 2026 تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار551 شکایات موصول ہوئیں ، موصولہ شکایات میں سے 499 شکایات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موقع پرحل یا ضروری رہنمائی فراہم کی گئی جبکہ498 شکایات دائرہ اختیار یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث ناقابلِ عمل تھیں،2 ہزار 610 شکایات صوبائی محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کی گئیں، 2610 شکایات میں سے 988 پرریلیف دیا گیا،

11 پرجزوی ریلیف جبکہ 781 شکایات پر کارروائی جاری ہے، 774 شکایات میرٹ پرپورا نہ اترنے کے باعث قابلِ کارروائی نہیں تھیں، اس موقع پروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ اجلاسوں اور پریزنٹیشنز سے نہیں عوام کی گواہی اوراطمینان سے ہوگا، انھوں نے کہا کہ شکایات کے مؤثرازالے اورحکمرانی میں عوامی شمولیت صوبائی حکومت کا وژن ہے، انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اوربیوروکریسی کا مستقبل عوامی اطمینان سے وابستہ ہے، کمپلینٹ سیل کے ذریعے شہریوں کو ملنے والے ریلیف سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ مزید لوگ اس سہولت سے مستفید ہوں، پشاورنرسنگ کالج واقعے کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے ،

خیبر پختونخوا کے طلبہ ہمارے بچے ہیں ان کے حقوق کے تحفظ اورخدمت کے لیے صوبائی حکومت ہرممکن قدم اٹھائے گی، خیبر پختونخوا میں شکایات کے ازالے کے دستیاب نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے بھرپورآگاہی مہم چلائی جائے گی، اجلاس کو بتایا گیا کہ 1090 شکایات دستی طورپر،1047 واٹس ایپ، 687 ای میل، 343 فون کالز، 273 فیس بک اور111 ایکس کے ذریعے موصول ہوئیں ۔