کسی شخص کے ملکیتی حقوق کو یکطرفہ کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، زمین واپس لینے یا ملکیتی حقوق متاثر کرنے سے قبل متعلقہ فریق کو نوٹس اور صفائی پیش کرنے کا معقول موقع دینا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سماعت کا موقع فراہم کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے، اس کے بغیر کی گئی کارروائی غیر قانونی تصور ہوگی …
زمین منسوخی سے قبل نوٹس اور سماعت کا موقع دینا لازم ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):کسی شخص کے ملکیتی حقوق کو یکطرفہ کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، زمین واپس لینے یا ملکیتی حقوق متاثر کرنے سے قبل متعلقہ فریق کو نوٹس اور صفائی پیش کرنے کا معقول موقع دینا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سماعت کا موقع فراہم کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے، اس کے بغیر کی گئی کارروائی غیر قانونی تصور ہوگی ۔
جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر سول اپیل خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ کے تحت بورڈ آف ریونیو کو فراڈ یا غلط بیانی سے حاصل کیے گئے حقوق کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے تاہم اس اختیار کے استعمال سے قبل متعلقہ شخص کو معقول موقع سماعت دینا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں زمین کی منسوخی سے قبل نہ تو مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ زمین کی مکمل قیمت ادا کی جا چکی تھی، قبضہ بھی منتقل ہوچکا تھا اور مدعا علیہان کے نام ریونیو ریکارڈ میں مالکان کے طور پر درج تھے۔
عدالت کے مطابق فطری انصاف کے اصول تقاضا کرتے ہیں کہ جس شخص کے خلاف کارروائی کی جائے اسے وضاحت دینے اور اپنا موقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع دیا جائے۔ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل بنیادی حق ہے اور کسی شخص کے حقوق متاثر کرنے والا فیصلہ سماعت کا موقع دیے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔مقدمے کے مطابق سرگودھا کے چک نمبر 89 این بی میں 20 کنال 10 مرلہ اراضی محمد یوسف کو الاٹ کی گئی تھی جس کے بعد یہ زمین مدعا علیہ کے حق میں منتقل کردی گئی اور انتقال بھی ریونیو ریکارڈ میں درج ہوگیا۔ بعدازاں بورڈ آف ریونیو پنجاب نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے الاٹمنٹ منسوخ کردی کہ زمین میونسپل حدود سے پانچ میل کے ممنوعہ علاقے میں واقع تھی اور الاٹمنٹ فراڈ اور غلط بیانی سے حاصل کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سروے جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق متنازع زمین سرگودھا شہر کی حدود سے مختلف مقامات کے حساب سے پانچ میل سے زیادہ فاصلے پر تھی تاہم ممنوعہ علاقے سے متعلق قانونی نکات کے باوجود زمین منسوخی سے قبل نوٹس اور سماعت کا بنیادی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔عدالت نے پنجاب حکومت کی دوسری درخواست کے حوالے سے قرار دیا کہ 4402 دن کی تاخیر معاف کرنے کے لیے قابل قبول وجہ پیش نہیں کی گئی۔ سرکاری محکموں کی غفلت اور انتظامی تاخیر کو محض عمومی جواز کی بنیاد پر تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تاخیر کی معافی کے لیے ہر دن کی تاخیر کی وضاحت ضروری ہے اور حکومت یا سرکاری محکموں کو عام سائلین کے مقابلے میں خصوصی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے تاخیر معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سول پٹیشن بھی مدت گزرنے کی بنیاد پر خارج کردی۔








