جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں وکیل کی پراسرار موت اور نعش برآمدگی کا مقدمہ درج

تھانہ سول لائنز پولیس نے جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں واقع لائرز کلب کی پارکنگ میں گاڑی سے وکیل کی پراسرار موت اورنعش برآمدگی کا مقدمہ درج کر کے متوفی کے کلائنٹ و منشی کو شامل تفتیش کر لیا ہے

راولپنڈی۔10ستمبر (اے پی پی):تھانہ سول لائنز پولیس نے جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں واقع لائرز کلب کی پارکنگ میں گاڑی سے وکیل کی پراسرار موت اورنعش برآمدگی کا مقدمہ درج کر کے متوفی کے کلائنٹ و منشی کو شامل تفتیش کر لیا ہے ۔ پولیس نے مقتول کے بھائی بیرسٹر سجاد احمد ستی کی مدعیت میں یہ مقدمہ قتل کی دفعات 302/34 کے تحت درج کیا ہے ۔مقدمہ کے متن کے مطابق مدعی مقدمہ بیرسٹر سجاد احمد ستی (ساکن اشرف ٹاؤن، گلبرگ گرینز، اسلام آباد) نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ ان کا سگا بھائی ثناء اللہ ستی پیشے کے لحاظ سے وکیل تھا اور تقریباً ایک سال سے اپنی بیٹی کے ہمراہ راولپنڈی میں رہائش پذیر تھا ۔مدعی مقدمہ کو اطلاع ملی کہ ان کے بھائی ثناء اللہ ستی کی نعش ان کی استعمال شدہ سوزوکی سوئفٹ گاڑی نمبر BAX/687 کی ڈرائیونگ سیٹ پر بڑی ہے جس پر وہ راجہ محمد عبداللہ ایڈووکیٹ اور شارق ستی ایڈووکیٹ کے ہمراہ موقع پر پہنچے جہاں گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ثناء اللہ ستی کی نعش موجود تھی جس کے منہ سے سفید جھاگ اور خون نکل رہا تھا جبکہ جسم کے مختلف حصوں بالخصوص دائیں و بائیں کندھوں پر بظاہر زخم کے نشانات موجود تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے متوفی کو کوئی نشہ آور چیز دے کر قتل کیا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کئے جبکہ پولیس نے مقتول کے استعمال میں موجود 2 موبائل فون اور جوڈیشل کمپلیکس میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا ہے ۔مقدمے کے متن میں مقتول کے کلائنٹ و منشی حماد کے موبائل نمبر سے رابطے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔پولیس کے مطابق نعش کا پوسٹمارٹم اور فرانزک معائنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے تاہم مقدمے کی تفتیش ایچ آئی یو انسپکٹر مرزا محمد عارف کے سپرد کر دی گئی ہے۔