ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام فورم کا انعقاد،سکلز گیپ کا خاتمہ ،اکیڈمیا اور صنعت کا اشتراک ناگزیر، ماہرین کا فورم میں اظہار خیال
ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام فورم کا انعقاد،سکلز گیپ کا خاتمہ ،اکیڈمیا اور صنعت کا اشتراک ناگزیر، ماہرین کا فورم میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پریذیڈنٹ سیکرٹریٹ اسلام آباد میں تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے روابط کے حوالے سے سکلنگ پاکستان: چیلنجز اور بہترین تجربات سے سیکھنے کے مواقع کے عنوان سے فورم کا انعقاد کیا گیا ۔فورم ایف پی سی سی آئی ،ینگ انٹرپرینیورز سمٹ، ایچ ای سی ٹاسک فورس برائے بزنس انکیوبیشن سینٹرز، ایٹلس ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور فیڈرل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز فورم کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہوا۔
فورم میں ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، صنعت کاروں اور یونیورسٹیوں کے سربراہان نے شرکت کی اور ملک میں مہارتوں کے فقدان کو دور کرنے کے لئے تعلیمی اداروں اور انڈسٹری میں مستقل تعاون پر زور دیا تاکہ گریجویٹس کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ اس اہم فورم کے حوالے سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور میں پاکستان کی معاشی بقا کے لیے مہارتوں کے فقدان (سکلز گیپ)کو دور کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور انڈسٹری میں معنی خیز تعاون، عملی تحقیق، اور اعلی تعلیم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) و جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اب اختیاری نہیں بلکہ پائیدار ترقی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
اہم اجلاس کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ یونیورسٹیوں کو ایسے جدت طبع کے مراکز (انوویشن ہبس)میں ڈھلنا ہوگا جو نوکریاں تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے افراد پیدا کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایف پی سی سی آئی نوجوانوں کو مستقبل کی جدید مہارتوں سے لیس کرنے کے لئے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، کارپوریٹ لیبارٹریز کو جدید بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب میں اصلاحات کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر طارق محمود جدون، ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس کے چیئرمین کریم عزیز ملک نے ایف پی سی سی آئی کی نمائندگی کی جبکہ انٹر یونیورسٹی کنسورشیم کے سی ای او محمد مرتضیٰ نور، ایچ ای سی کے ممبر ریسرچ اینڈ اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر سید حبیب علی بخاری، پاکستان سائنس فائونڈیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل، ایچ ای سی کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ناصر اور وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سید شہباز حسین شمسی نے خطاب کیا۔ تقریب کے دوران ایٹلس ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی تکنیکی تربیت پر تیار کردہ ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی۔سیشن میں پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ ہری پور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، ہونڈا ایٹلس، ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور راولپنڈی وومن یونیورسٹی کے کامیاب ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ تعلیمی نصاب کی تشکیل میں صنعت کے ماہرین کو شامل کیا جائے اور نصاب کو جدید مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ فورم نے سفارش کی کہ طالب علموں کے لئے انٹرنشپ کو لازمی، عملی اور نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ انہیں کام کا حقیقی تجربہ حاصل ہو سکے۔ اس کے علاوہ اعلی تعلیم، تدریس، تحقیق اور نئے کاروباری منصوبوں میں صنعت کاروں کے عملی کردار کو ضروری قرار دیا گیا۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ماہرین نے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو ڈیجیٹل فن، کاروباری صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے لیس کریں۔ شرکا نے تجاویز دیں کہ اورک (ORIC) اور بی آئی سی (BIC) کے شعبوں کو پیشہ ور عملے کے ذریعے مضبوط بنایا جائے اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی فنڈز کے ذریعے لیبارٹریوں کو جدید بنایا جائے تاکہ طلبہ حقیقی صنعتی مسائل کا حل تلاش کر سکیں۔
عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی کی جانب سے نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق محمود جدون اور انچارج کیپٹل آفس کریم عزیز ملک نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور تعلیمی و صنعتی خلا کو پر کرنے کے لئے چیمبر کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی تجارتی مراکز انسانی وسائل کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔پروگرام کے اختتام پر وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سید شہباز حسین شمسی نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں فنی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے 2027 کو "سالِ مہارتیں” قرار دیا ہے۔ تقریب کے آخر میں تمام شرکا کو اکتوبر 2026 کے وسط میں اسلام آباد میں ہونے والی ینگ سی ای اوز، انٹرپرینیورز اینڈ انوویٹرز سمٹ، ایکسپو اینڈ ایوارڈز میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ تمام حاضرین نے اس نشست کے انعقاد کو سراہا اور ایسے پروگرام باقاعدگی سے منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔








