وفاقی وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت کم آمدنی والے اور اہل پاکستانی خاندانوں کے لیے سستے رہائشی قرضوں کی فراہمی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور 4 ستمبر 2026ء تک مجموعی طور پر 351.3 ارب روپے کے قرضہ جات جاری کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے۔
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت سستے رہائشی قرضوں کی فراہمی میں نمایاں پیش رفت جاری ہے ،مشیرخزانہ خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہاہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت کم آمدنی والے اور اہل پاکستانی خاندانوں کے لیے سستے رہائشی قرضوں کی فراہمی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور 4 ستمبر 2026ء تک مجموعی طور پر 351.3 ارب روپے کے قرضہ جات جاری کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ”گھر ہو تو اپنا“ پروگرام کے تحت اب تک 60 ہزار 349 درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے جبکہ 9 ہزار 717 مستحقین کو 51.13 ارب روپے کے قرضے جاری بھی کیے جاچکے ہیں۔
پروگرام کے تحت قرضوں کی منظوری کی مجموعی شرح 38.5 فیصد ہے جبکہ فی قرضہ اوسط رقم تقریباً 52.6 لاکھ روپے بنتی ہے۔انہوں نے کہاکہ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران منظور شدہ فنانسنگ میں 38.3 ارب روپے کا اضافہ ہواہے جو 12 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ اس تیز رفتار اضافے سے پروگرام میں بڑھتی ہوئی پیش رفت اور عوامی دلچسپی کی عکاسی ہورہی ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ اب منظور شدہ قرضوں کی جلد از جلد فراہمی اور منظوریوں کو عملی طور پر گھروں کی تعمیر اور ملکیت میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوزکی گئی ہے، اس مقصد کے لیے رہائشی قرضوں کے حصول کے عمل کو مزید آسان، سادہ اور عام پاکستانی خاندانوں کے لیے قابل رسائی بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔
پروگرام کے تحت ایک کروڑ روپے تک کے قرضے 20 سال تک کی مدت کے لیے فراہم کیے جاسکتے ہیں جبکہ قرضے پر پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد کی مقررہ شرح مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سستے رہائشی قرضوں کی فراہمی سے نہ صرف لوگوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ رہائشی تعمیرات میں اضافے سے تعمیراتی شعبے کے ساتھ ساتھ سیمنٹ، سٹیل، تعمیراتی سامان، متعلقہ صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے تحت پیش رفت کا بنیادی مقصد مالی وسائل تک رسائی کو آسان بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اہل خاندانوں کو گھر کی ملکیت کی سہولت فراہم کرنا ہے جس کے نتیجے میں رہائشی شعبے میں تعمیرات، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔








