پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ’’دفاعی اتحاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال معاہدے کو وسعت دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ فی الحال مکہ معاہدے کی توسیع زیرِ غور نہیں کیونکہ متعلقہ ممالک کو پہلے اپنی تنظیم کو مضبوط بنانا ہوگا اس کے بعد یہ ان تمام ممالک …
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی اتحاد ہے، فی الحال معاہدے کو وسعت دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں، ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کی پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ’’دفاعی اتحاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال معاہدے کو وسعت دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ فی الحال مکہ معاہدے کی توسیع زیرِ غور نہیں کیونکہ متعلقہ ممالک کو پہلے اپنی تنظیم کو مضبوط بنانا ہوگا اس کے بعد یہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہوگا جو اسی طرح کے خیالات، تصورات اور ضروریات رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے دستخط کنندہ ممالک جن میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں، مختلف سطحوں پر مسلسل اجلاس اور مشاورت کررہے ہیں جبکہ توسیع سے متعلق فیصلہ بعد ازاں تینوں ممالک کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے، اس کے علاوہ پہلے سے موجود طویل مدتی تعلقات اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو مزید مستحکم کرنا بھی اس کا مقصد ہے۔
پاکستان سے افغان طلبہ کی واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام طلبہ کو ملک بدر کرنے کا کوئی عمومی فیصلہ نہیں کیا گیا،ایسے طلبہ جو کسی مستند ڈگری پروگرام میں داخل ہیں اور ان کے پاس درست ویزا موجود ہے، انہیں پاکستان میں قیام اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت ہے۔ کاسا-1000 اور دیگر بڑے علاقائی رابطہ منصوبوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت کو سرحد پار دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کا ازالہ کرنا ہوگا، جب دہشت گردی کے خطرات میں کمی آئے گی تو معمول کے دوطرفہ اور اقتصادی تعلقات فروغ پاسکیں گے جس سے ان اہم علاقائی توانائی اور ٹرانزٹ منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ترجمان نے بھارت میں مساجد کی مسماری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی منظم اور ریاستی سرپرستی میں مسماری کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام 1950 کے لیاقت نہرو معاہدے کے ساتھ ساتھ بھارت کے اپنے قوانین، بالخصوص 1991 کے مقاماتِ عبادت ایکٹ کی بھی براہِ راست خلاف ورزی ہے جس کے تحت کسی عبادت گاہ کی مذہبی حیثیت برقرار رکھنا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا سے متاثرہ اسلاموفوبک مہم ایک فوری خطرہ بن چکی ہے جس کے نتیجے میں صدیوں پرانے ثقافتی ورثے کے مقامات اور عبادت گاہیں تباہ کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1992 میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت مذہبی عدم برداشت، تعصب اور نفرت پر مبنی اس نظریے کی ایک ہولناک یاد ہے۔ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری منظم ظلم و ستم اور ان کی عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی اور تباہی کا فوری نوٹس لے۔ حریت رہنما محمد یاسین ملک کی جانب سے 1990 کے من گھڑت الزامات پر جمع کرائے گئے حلف نامے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی جانب سے اختیار کیا گیا مؤقف محض بہادری کا مظاہرہ نہیں بلکہ بھارتی عدالتی نظام پر ایک سخت فردِ جرم بھی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان یاسین ملک کے مقدمے اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو تمام عالمی فورمز پر اٹھاتا رہے گا کیونکہ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے اور اسے بھارتی ریاستی جبر کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ترجمان نے 9/11 کے 25 ویں سال کے حوالے سے سوال پر کہا کہ اس واقعے نے بین الاقوامی تعاون کے پورے منظرنامے کو تبدیل کردیا جس کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک غیر معمولی کردار ادا کیا، 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں اور تقریباً 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا جبکہ اسے آج بھی دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردی بڑی حد تک بھارت کی جانب سے کرائی جارہی ہے۔
بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا الزام عائد کرتا رہتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ دہشت گردی یہیں سے جنم لیتی ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھارت اپنے ریاستی نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان کے تقریباً تمام حصوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر ملوث ہے۔ کلبھوشن جادیو اس کی ایک زندہ مثال ہے جو 2016 سے ہماری حراست میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا نہ صرف ہمارے خطے بلکہ عالمی سطح بشمول یورپ، کینیڈا اور امریکا، جہاں بھارت کی جانب سے ہدف بنا کر کارروائیوں کی سرپرستی کے شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں تدارک ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر موجود نقشے بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کو غیر قانونی طور پر بھارت کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک درجن سے زائد قراردادیں اب بھی موجود ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیری عوام نے کرنا ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں اضافی فوجی تعیناتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہاں ہر سات افراد کی نگرانی پر ایک پولیس اہلکار یا فوجی تعینات ہے۔
نہوں نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کو دبانا ہے تاکہ وہ اپنے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنا بند کر دیں۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات حملوں میں نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان یمن میں بھی امن و استحکام کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، سعودی عرب وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پالیسی پر عمل درآمد کے بعد بڑی تعداد میں افراد واپس جاچکے ہیں تاہم پاکستان کے مختلف علاقوں میں اب بھی 10 لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے تاہم افغانستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش سنگین سکیورٹی خدشات کا ازالہ کرنا ہوگا کیونکہ یہی عناصر پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں بھارت نے 25 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا جبکہ پاکستان نے بھی بھارتی قیدیوں کو رہا کیا ہے، گزشتہ دو برسوں کے دوران سزائیں مکمل ہونے پر 400 سے زائد بھارتی قیدی رہا کیے گئے۔متحدہ عرب امارات کی ویزا پالیسی سے متعلق افواہوں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یو اے ای کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو ہر سال جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد ان پاکستانیوں کی واپسی کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 7,000 سے 8,000 پاکستانی ہر سال ویزا مدت سے تجاوز کرنے، ملازمت سے متعلق مسائل یا معمولی خلاف ورزیوں کے باعث واپس بھیجے جاتے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً 40 ہزار سے50 ہزار پاکستانیوں کو متحدہ عرب امارات کے ورک ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویزے جاری ہونے کی شرح پاکستانیوں کی واپسی کی شرح سے سات سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔گزشتہ ہفتے کی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے کرغزستان کے سرکاری دورے کا حوالہ دیا جہاں دونوں ممالک نے دفاع، تجارت، توانائی بشمول کاسا-1000 اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 17 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
اسی دوران نائب وزیرِ اعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکیہ، مصر، کویت اور ناروے سمیت مختلف ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی۔ انہوں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار اولارا اوتونو سے بھی ملاقاتیں اور بات چیت کی۔








