بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ارکان عبید اللہ گورگیج، صفیہ فضل، فضل قادر مندوخیل اور محمد خان لہڑی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات عمران گچکی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی،سپیشل سیکرٹری سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ محکموں …
بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 10 ستمبر (اے پی پی):بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ارکان عبید اللہ گورگیج، صفیہ فضل، فضل قادر مندوخیل اور محمد خان لہڑی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات عمران گچکی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی،سپیشل سیکرٹری سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر، ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (فاریسٹری اینڈ وائلڈ لائف کمپوننٹس)، حکومت بلوچستان کے مالی سال کے خصوصی آڈٹ سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2022-23کے مختلف پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی، جس کے بعد آڈٹ اعتراضات پر غور کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ مذکورہ آڈٹ پیراز پر آڈٹ رپورٹ کی تکمیل سے قبل ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا اجلاس منعقد نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خصوصی آڈٹ کی ہدایت کی تھی۔ کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ خصوصی آڈٹ سے متعلق رپورٹ تاحال PAC کو موصول نہیں ہوئی۔
آڈٹ پیرا 4.1.1 کے تحت ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کی سرگرمیوں میں سست روی کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ کے مطابق منصوبے کی مدت کے دوران پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹس (PIUs) میں افسران کے بار بار تبادلوں اور پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) میں ضروری آسامیوں پر بروقت تعیناتی نہ ہونے کے باعث منصوبے کی مالی و طبعی پیش رفت متاثر ہوئی۔آڈٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران منصوبے کی مجموعی طبعی پیش رفت صرف 12.43 فیصد جبکہ مالی پیش رفت 10 فیصد رہی۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی سست روی کی وجوہات اور موجودہ صورتحال کے بارے میں وضاحت طلب کی۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ چونکہ مذکورہ پیراز پر پہلے DAC کا اجلاس منعقد نہیں ہوا تھا، اس لیے انہیں ڈی اے سی کو بھیجا جائے اور DAC مقررہ مدت میں اجلاس منعقد کرکے اپنی سفارشات PAC کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ DAC کا پہلا اجلاس 12 نومبر 2025 کو منعقد ہو چکا ہے، تاہم آڈٹ حکام کے مطابق محکمہ کی جانب سے منصوبے کی فزیکل ویری فکیشن کے عمل میں تاحال مطلوبہ تعاون نہیں کیا جا رہا۔
کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ 20 روز کے اندر آڈٹ حکام کو مطمئن کرکے فزیکل ویری فکیشن کا عمل مکمل کیا جائے اور پیش رفت سے PAC کو آگاہ کیا جائے۔اجلاس میں منصوبے کے تحت نرسری انفراسٹرکچر کے اہداف پورے نہ ہونے سے متعلق 55.420 ملین روپے کے مالی نقصان کے آڈٹ پیرا کا بھی جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق منصوبے کے تحت صوبے میں 70 نرسری سائٹس قائم، ترقی یافتہ یا اپ گریڈ کی جانی تھیں، تاہم مختلف PIUs میں مطلوبہ نرسری انفراسٹرکچر قائم نہ کیے جانے کے باعث منصوبے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔کمیٹی نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت قائم کی جانے والی نرسریوں کی مجموعی تعداد، مکمل ہونے والی نرسریوں اور متعلقہ محکموں کے حوالے کی جانے والی نرسریوں کی تفصیلات حاصل کرکے PAC کے سامنے پیش کی جائیں۔اجلاس میں GIS/FMIS نظام کے عدم قیام سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیرِ غور آیا۔ آڈٹ کے مطابق مذکورہ نظام کے قیام کا مقصد منصوبے کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی، ڈیٹا کے حصول اور پیش رفت کا بروقت جائزہ لینا تھا، تاہم مطلوبہ نظام کے مؤثر قیام نہ ہونے کے باعث منصوبے کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ متاثر ہوئی۔
محکمہ کی جانب سے GIS/FMIS نظام سے متعلق ریکارڈ اور تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں، جن کا جائزہ لیا گیا۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے خصوصی محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس اور زیرِ التوا معاملات میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو بارہا وقت دیا گیا، تاہم مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔کمیٹی نے متعلقہ محکمہ کو مزید 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام زیرِ التوا معاملات مکمل کرکے آڈٹ حکام کو مطمئن کیا جائے اور PAC کو پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ذمہ داری کا تعین ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بعض پیراز پر محکمہ کی جانب سے جوابات موصول ہو چکے ہیں جبکہ فراہم کردہ اعداد و شمار کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔شجرکاری پر 1,236.719 ملین روپے کے اخراجات کا جائزہ اجلاس میں ضلع کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے مؤثر کردار کے بغیر شجرکاری سرگرمیوں پر 1,236.719 ملین روپے کے اخراجات سے متعلق آڈٹ پیرا بھی تفصیلی طور پر زیرِ بحث آیا۔
آڈٹ کے مطابق مختلف PIUs کی جانب سے شجرکاری کے لیے پودوں کی خرید و کاشت پر مذکورہ رقم خرچ کی گئی، تاہم متعلقہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے اجلاس منعقد نہیں کیے گئے اور شجرکاری کے مقامات کے انتخاب سمیت متعلقہ محکموں کی ضروریات کے تعین کے لیے مطلوبہ مشاورت نہیں کی گئی۔کمیٹی نے معاملے کی اہمیت اور خطیر عوامی رقم کے استعمال کے پیش نظر ہدایت کی کہ آڈٹ کو موصول ہونے والے ریکارڈ کی مزید تصدیق متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے کرائی جائے، تاکہ اخراجات، شجرکاری کے مقامات اور منصوبے کے عملی نتائج کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔اجلاس میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات سے متعلق بعض آڈٹ پیراز کو مطلوبہ ریکارڈ اور وضاحتوں کی فراہمی کے بعد سیٹل کر دیا گیا، جبکہ دیگر پیراز کے لیے محکمہ کو مقررہ مدت میں مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے کے لیے وقت دیا گیا۔
دورانِ اجلاس چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے ایک مقام پر تعمیر کیے جانے والے گھر کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے، کیونکہ چیئرمین کے مطابق مذکورہ نوعیت کا تعمیراتی کام محکمہ جنگلات کے بجائے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے دائرہ کار سے متعلق ہے۔ آڈٹ حکام کو معاملے کی جانچ کرکے حقائق کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ 15 ارب روپے سے زائد کا ایک وسیع اور اہم منصوبہ ہے، جس پر اب تک 6 ارب 35 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ گزشتہ دس سال سے جاری اس پروجیکٹ میں اربوں روپے بہا دینے کے باوجود محکمہ کی عملی کارکردگی صفر رہی ہے،
اس موقع پرعبیداللہ گورگیج نے کہا اسی لیے تمام نرسریوں کی شفافیت کی تصدیق متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر سے کروائی جائے گی۔ اگر محکمہ نے پی اے سی کی ہدایات پر عمل درآمد نہ کیا تو یہ کیس کارروائی کے لیے نیب کے حوالے کر دیا جائے گا۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے واضح کیا کہ کمیٹی غیر ضروری تاخیر اور بار بار وقت دینے کے عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ ریکارڈ، جوابات اور رپورٹس فراہم کریں تاکہ عوامی فنڈز کے استعمال، منصوبے کی کارکردگی اور آڈٹ اعتراضات سے متعلق معاملات کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔







