بھارت کے پاس 190نیوکلیئروارہیڈزموجود ہیں، امریکی تھنک ٹینک کا انکشاف
بھارت کے پاس 190نیوکلیئروارہیڈزموجود ہیں، امریکی تھنک ٹینک کا انکشاف
نئی دہلی۔11ستمبر (اے پی پی):بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تقریبا 190 وارہیڈز موجود ہیں جن میں تقریبا 30 اضافی وارہیڈز بھی شامل ہیں جو اس وقت تیاری کے مراحل میں موجود نئے میزائلوں کے لیے مختص ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ انکشاف امریکا میں قائم تھنک ٹیک فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ نے ایک رپورٹ میں کیا ۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی جوہری ہتھیاروں کا تخمینہ پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے جائزے سے بڑی حد تک مطابقت رکھتا ہے۔
انسٹیٹیوٹ کے تخمینے کے مطابق رواں سال جنوری تک بھارت کے پاس تقریبا190 جوہری ہتھیارموجود تھے۔ بھارت کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق یہ تخمینہ پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی اس سالانہ رپورٹ کا حصہ ہے جس میں ہتھیاروں، تخفیف اسلحہ اور عالمی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔تھینک ٹینک کے مطابق بھارت کے جوہری ہتھیاروں کا تخمینہ دستیاب معلومات، ریاستی سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنیاد پرلگایاگیاہے ۔
فیڈریشن کے نیوکلیئر انفارمیشن پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ہانس کرسٹینسن نے ‘انڈیا نیوکلیئر ویپنز 2026’کے عنوان سے مضمون میں کہا ہے کہ بھارت کی جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں سے متعلق دستیاب معلومات کی بنیاد پر تخمینہ لگایاگیاہے کہ بھارت کے پاس تقریبا 190 جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے جوہری ذخیرے میں 160سے زائد وارہیڈز ایسے ہیں جو آپریشنل لانچرز کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ دیگر وارہیڈز نئے میزائلوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے حالیہ برسوں کے دوران اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ، اس کے ساتھ ساتھ جوہری صلاحیت رکھنے والے طیاروں، زمین اور سمندر سے فائر کئے جانے والے میزائل نظام اور پلیٹ فارمز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔فیڈریشن کے مطابق بھارت کے پاس 140سے 225جوہری وارہیڈز تیار کرنے کے لیے کافی مقدار میں پلوٹونیم موجود ہے ۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مزید جوہری نظام تیاری کے مراحل میں ہونے کے باعث بھارت کے جوہری وارہیڈز کے ذخیرے میں مستقبل میں مزید اضافہ متوقع ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2026 کے آغاز میں انٹرنیشنل پینل آن فِسائل میٹیریلز کے تخمینے کے مطابق بھارت تقریبا 730 کلوگرام ہتھیاروں کے درجے کا پلوٹونیم تیار کر چکاہے۔
رپورٹ کے مطابق اتنی مقدارمیں پلوٹونیم 140سے 225 جوہری وارہیڈز تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔جون میں جاری کیے گئے اپنے جائزے میں پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے خبردار کیاتھا کہ بھارت نئے جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے نظام تیار اور بیلسٹک میزائلوں پر ایک سے زیادہ وارہیڈز نصب کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔









