سی ڈی ڈبلیو پی نے اڑان پاکستان کے تحت 116 ارب روپے کے 7 منصوبوں کی منظوری دے دی

سی ڈی ڈبلیو پی نے اڑان پاکستان کے تحت 116 ارب روپے کے 7 منصوبوں کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 7 ترقیاتی منصوبوں پر غور کرتے ہوئے ان کی منظوری دے دی، ان میں سے 5 منصوبے 21 ارب کی لاگت سے سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کیے جبکہ 94 ارب 30 کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کے 2 بڑے منصوبے مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی۔ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی معیشت کے اہم شعبوں کو مستحکم بنانے اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو تیز کرنے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مجموعی طور پر 7 ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا اور ان کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے 5 منصوبے 21 ارب 590 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کیے جبکہ 94 ارب 30 کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کے 2 بڑے منصوبے مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی۔اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی، چیف اکانومسٹ، وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)، پلاننگ کمیشن کے ارکان، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی پلاننگ و ڈویلپمنٹ بورڈز کے سربراہان اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے ایجنڈے میں غذائی و زرعی، گورننس، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل اور آبی وسائل کے اہم منصوبے شامل تھے۔

یہ منصوبے حکومت کے اڑان پاکستان پروگرام کے وسیع تر ترقیاتی وژن اور اصلاحاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں جس کا مقصد انسانی سرمائے کو مضبوط بنانا، گورننس کو جدید بنانا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنا اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔سی ڈی ڈبلیو پی نے فوڈ اینڈ ایگریکلچر سیکٹر کے نظرثانی شدہ منصوبے ’’پاکستان میں تجارتی پیمانے پر زیتون کی کاشت کا فروغ، فیز ٹو‘‘ کی منظوری دے دی جس کی لاگت 5 ارب 14 کروڑ 91 لاکھ 90 ہزار روپے ہے۔منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے یاد دلایا کہ یہ منصوبہ ابتدائی طور پر 2014ء میں وژن 2025 کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو پیشہ ورانہ اور نتائج پر مبنی انداز میں چلایا جانا چاہیے تھا اور اس میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نجی شعبے کے متعدد ادارے پہلے ہی زیتون کی کامیاب کاشت کے عملی تجربات رکھتے ہیں، اس لیے ان کی مہارت اور تجربے کو منصوبے میں شامل کیا جائے تاکہ تجارتی پیمانے پر زیتون کی پیداوار میں تیزی لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کلر کہار، اسلام آباد اور وسیع تر پوٹھوہار بیلٹ زیتون کی کاشت کے لیے وسیع استعداد رکھتے ہیں، اس لیے منصوبے میں اس خطے کی صلاحیت کو مناسب طور پر شامل کیا جائے۔ منصوبے کے تحت بلوچستان اور نئے ضم شدہ اضلاع میں زیتون کے فارمز کو وسعت دی جائے گی۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ ملک میں زیتون کی کاشت کا ہدف 10 لاکھ ایکڑ مقرر کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے منصوبے ’’ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن‘‘ کو مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی۔ منصوبے کی لاگت 57 ارب 10 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے۔منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی معاونت کے تحت نرم شرائط پر غیر ملکی قرض سے مالی اعانت تجویز کی گئی ہے۔منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے قابل پیمائش اور واضح نتائج کے تعین کی ضرورت پر زور دیا، بالخصوص محصولات میں اضافے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری اور ٹیکس دہندگان کے دائرہ کار میں توسیع کے حوالے سے ہے۔

ایف بی آر نے اجلاس کو بتایا کہ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں 2029 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 13.5 فیصد تک بڑھانے اور مزید ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے منصوبے کو ایکنک بھجوانے کی سفارش کرتے ہوئے شرط عائد کی کہ پائیڈ منصوبے کے بزنس ماڈل کا مکمل جائزہ لے۔اعلیٰ تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) کے نظرثانی شدہ منصوبے ’’ڈاکٹر اشفاق احمد خان سینٹر ان بیسک سائنسز‘‘ کی بھی منظوری دے دی گئی۔

یہ منصوبہ مارچ 2018ء میں منظور کیا گیا تھا تاہم زمین سے متعلق مسائل کے باعث مکمل نہیں ہو سکا۔احسن اقبال نے منصوبے میں تاخیر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں منظور کیے گئے آٹھ نیشنل سینٹرز میں سے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بگ ڈیٹا و کلائوڈ کمپیوٹنگ، جی آئی ایس و سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، آٹومیشن و روبوٹکس، اپلائیڈ میتھمیٹکس اور لائیو سٹاک و جینومکس کے سات مراکز مکمل ہو چکے ہیں جبکہ یہ منصوبہ بدستور زیر التواء رہا۔وفاقی وزیر نے ممبر انفراسٹرکچر اور ممبر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آٹھ سال گزرنے کے پیش نظر مرکز میں جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں کو شامل کیا جائے اور منصوبے کی لاگت کو بھی منطقی بنایا جائے۔انہوں نے ایچ ای سی کو خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں ایک ایک یونیورسٹی کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی جہاں اسی نوعیت کے مراکز قائم کیے جا سکیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو جدت اور تحقیق کا انجن بننا ہوگا اور تحقیق کو کمرشلائز کرنے کے لیے مضبوط ایکو سسٹم تشکیل دینا ہوگا۔ انہوں نے ملک کی پانچ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کی لیبارٹریز کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت بھی کی۔انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی کو اعلیٰ معیار کے انجینئرز تیار کرنے والا عالمی برانڈ بننا چاہیے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق دو منصوبے بھی اجلاس میں پیش کیے گئے۔’’پاک سیٹ-2 سیٹلائٹ سسٹم‘‘ منصوبہ جس کی لاگت 37 ارب 19 کروڑ 22 لاکھ 82 ہزار روپے ہے، مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی۔دوسرے منصوبے ’’ڈویلپمنٹ آف GEOSPATIALx COMPLEx (Geo-AI Development & Innovation Hub)‘‘ کی 3 ارب 62 کروڑ 30 لاکھ 40 ہزار روپے لاگت سے منظوری دے دی گئی۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے خلائی پروگرام کی ترقی اڑان پاکستان کا ایک اہم ستون ہے۔

وزارت بین الصوبائی رابطہ کے منصوبے ’’پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں مختلف سہولیات کی بحالی اور تزئین و آرائش‘‘ کو بھی 5 ارب 75 کروڑ 83 لاکھ 33 ہزار روپے کی لاگت سے منظور کر لیا گیا۔ منصوبے میں سول و بیرونی ترقیاتی کام، موجودہ سہولیات کی بحالی و تزئین، سائوتھ ایشین گیمز سیکرٹریٹ کا قیام، بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن، ایچ وی اے سی نظام کی بحالی، پلمبنگ و فائر فائٹنگ سسٹم اور سکیورٹی و نگرانی کے نظام کی تنصیب شامل ہے۔احسن اقبال نے ہدایت کی کہ منصوبے کی سمری اصولی منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جائے۔

انہوں نے سپورٹس بورڈ کی منصوبے پر عملدرآمد کی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر موثر عملدرآمد کے لیے متعلقہ ادارے میں ضروری انتظامی و ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہونی چاہیے۔انہوں نے ماضی میں سپورٹس بورڈ کی کارکردگی سے متعلق مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد اور احتساب کے لیے واضح اور واحد ذمہ داری مقرر کی جائے، متعدد اداروں کے درمیان اختیارات کی اوورلیپنگ سے گریز کیا جائے۔واٹر سیکٹر کے منصوبے ’’واٹر ریسورسز مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ (WRMD)، واپڈا کے ہائی فریکوئنسی (HF) ریڈیوز نیٹ ورک کی بہتری‘‘ کی بھی منظوری دے دی گئی۔

منصوبے کی لاگت 33 کروڑ 81 لاکھ 79 ہزار روپے ہے۔منصوبے کے لیے غیر ملکی قرض اور پی ایس ڈی پی فنڈنگ کے ذریعے مالی اعانت تجویز کی گئی ہے۔منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے موثر آبی وسائل کے انتظام کے لیے مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری سے عملی اور قابل پیمائش آپریشنل بہتری یقینی بنائی جائے اور منصوبے کے وسائل کا موثر استعمال کرتے ہوئے بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔