سپریم کورٹ نے پولیس پر فائرنگ میں گرفتار ملزم ارشاد کی ضمانت منظورکر لی

سپریم کورٹ نے راولپنڈی میں پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کرلی۔ دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ساتھی کی فائرنگ سے صرف ٹانگ پر گولی لگی، یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ملزم ساتھی کی فائرنگ سے مرا نہیں

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے راولپنڈی میں پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کرلی۔ دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ساتھی کی فائرنگ سے صرف ٹانگ پر گولی لگی، یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ملزم ساتھی کی فائرنگ سے مرا نہیں۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ارشاد پر پہلے بھی سولہ سے زائد مقدمات درج ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پھر تو بہتر ہے ملزم جیل میں رہے، ہوسکتا ہے ملزم باہر آ کر ساتھیوں کی فائرنگ سے مر جائے۔ملزم کے وکیل مطیع اللہ نے موقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ ملزم کی گرفتاری کے بعد بنایا گیا ہے۔ ملزم کو ہاف فرائی کیا گیا ہے، فل فرائی نہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہاف فرائی، فل فرائی کیا ہوتا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ ہاف فرائی میں ٹانگ پر گولی ماری جاتی ہے جبکہ فل فرائی میں جان سے مار دیا جاتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ آپ کہتے ہیں تو ضمانت دے دیتے ہیں، ورنہ ملزم جیل میں محفوظ ہے۔ سرکاری خرچ پر ملزم کی حفاظت کی جا رہی ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم ارشاد کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

مزید خبریں