بینظیر نشوونما پروگرام (BNP) فیز III کے عملی نفاذ کے حوالے سے دو روزہ آگاہی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سنٹرل زون پنجاب اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) کے اشتراک سے بینظیر نشوونما پروگرام (BNP) فیز III کے عملی نفاذ کے حوالے سے دو روزہ آگاہی،منصوبہ بندی اور استعدادِ کار میں اضافے کی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی

لاہور۔11ستمبر (اے پی پی):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سنٹرل زون پنجاب اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) کے اشتراک سے بینظیر نشوونما پروگرام (BNP) فیز III کے عملی نفاذ کے حوالے سے دو روزہ آگاہی،منصوبہ بندی اور استعدادِ کار میں اضافے کی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ورکشاپ میں سنٹرل پنجاب کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے ڈسٹرکٹ منیجرز، تحصیل منیجرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد فیلڈ سطح کی قیادت کو بینظیر نشوونما پروگرام فیز III کے عملی نفاذ، ایڈووکیسی اور سماجی و رویوں میں تبدیلی کے ابلاغ (SBCC) سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ورکشاپ کے دوران کمیونٹی کی شمولیت، غذائیت سے متعلق آگاہی اور صحت مند رویوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماں اور دو سال سے کم عمر بچوں کی غذائی ضروریات کو بھی اجاگر کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی سنٹرل زون پنجاب نصیرالدین سرور نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے فیزIII کا آغاز پنجاب کے کمزور اور مستحق گھرانوں میں غذائی قلت اور بچوں میں قد کی کم نشوونما (Stunting) کے مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں اہم سنگ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف نقد مالی معاونت بین النسلی غربت کے چکر کو ختم نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لیے رویوں میں مستقل اور پائیدار تبدیلی بھی ضروری ہے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل منیجرز کو بی آئی ایس پی کی فیلڈ سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے یونیسف کے ساتھ تعاون کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ شراکت داری کے ذریعے فیلڈ اسٹاف کو ضروری معلومات،آلات اور حکمت عملی فراہم کی جارہی ہے تاکہ ہر اہل ماں اور بچے تک پروگرام کے فوائد موثر انداز میں پہنچائے جاسکیں۔یونیسف کے چیف فیلڈ آفیسر رامیز بہبودوف نے حکومت پاکستان اور بی آئی ایس پی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیسف ماں اور بچے کی غذائیت کے بہتر نتائج کے حصول کے لیے معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام فیز III میں کمیونٹی سطح پر آگاہی اور رویوں میں تبدیلی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ڈائریکٹر بی آئی ایس پی سنٹرل زون وقارالنسا نے کہا کہ ورکشاپ انتظامی اور فیلڈ افسران کو فیز III کے موثر نفاذ کے لیے واضح عملی رہنما اصول فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجی و رویوں میں تبدیلی کے ابلاغ کے فریم ورک کو نچلی سطح کے انتظامی نظام سے ہم آہنگ کرنے سے فیلڈ آپریشنز اور نشوونما مراکز پر مستحقین کو سہولیات کی فراہمی مزید بہتر بنائی جاسکے گی۔ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شرکا نے گروپس کی صورت میں عملی مشقوں میں حصہ لیا اور فیلڈ سطح پر پروگرام کے نفاذ کے دوران درپیش مسائل اور چیلنجز کا جائزہ لیا۔شرکا نے پروگرام کی قوتوں، کمزوریوں، تحفظات اور بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔اختتام پر تقسیم اسناد کی تقریب منعقد ہوئی،جس میں تمام شرکا کو اسناد پیش کی گئیں۔اس موقع پر شرکا نے ورکشاپ کے دوران حاصل ہونے والے تجربات اور معلومات سے بھی آگاہ کیا۔ورکشاپ میں بی آئی ایس پی پنجاب کے اعلی افسران،سنٹرل زون کے ڈائریکٹر، ضلعی و تحصیل سطح کے فیلڈ افسران، یونیسف اور دیگر ترقیاتی شراکت دار اداروں،جن میں ورلڈ فوڈ پروگرام(WFP) اور عالمی ادار صحت(WHO) کے نمائندگان شامل تھے، نے شرکت کی۔آخر میں بی آئی ایس پی اور یونیسف نے بینظیر نشوونما پروگرام فیز III کے موثر نفاذ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید خبریں