پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ کیخلاف کیس ،چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے بیان حلفی طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ کیخلاف کیس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے بیان حلفی طلب کرتے ہوئے دونوں افسران کو پیر کو آئندہ سماعت پر بھی پیش ہونے کی ہدایت کردی

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ کیخلاف کیس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے بیان حلفی طلب کرتے ہوئے دونوں افسران کو پیر کو آئندہ سماعت پر بھی پیش ہونے کی ہدایت کردی ۔ عدالت نے جواب الجواب دلائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ باقی صوبوں کے افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ شاہ فیصل نے پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کیس میں فریق بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی بلا کر سن لیا جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وہ شہری آزادی کے سخت حامی ہیں جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت جو بھی حکم دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اگر اسلام آباد کے حقوق متاثر ہونگے تو یہ عدالت مداخلت کرے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج و لانگ مارچ کے خلاف شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ شاہ فیصل نے عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پہلا نکتہ جس کو دیکھنا چاہیے وہ اس عدالت کا دائرہ اختیار ہے ، یہ عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ کے تحت وجود میں آئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد کی حدود تک ہے۔ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، کے پی کو ہدایات دینا اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں۔اگر اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار پورے پاکستان کا تھا تو پھر دائرہ اختیار صرف اسلام آباد کیوں قانون میں لکھا گیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے کافی فیصلے موجود ہیں جن میں آپ نے دائرہ اختیار نہ ہونے پر وہ کیسز نہیں سنے۔اگر ایک ہائیکورٹ دوسرے صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرے گی تو 18 ویں ترمیم غیر موثر ہوجائے گی۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہا یہ بھی دیکھنا ہے کہ درخواست گزار متاثرہ فریق ہے کہ نہیں،دائرہ اختیار کے سوال پر دوسرے فریق سے دلائل لے لیں اور اپنا اطمینان کر لیں،اگر اسلام آباد ہائیکورٹ اس درخواست کو سنے گی تو مقننہ کی دانست ہی ختم ہو جائے گی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی لانگ مارچ کر رہی ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ جس پارٹی کے خلاف درخواست ہے اُسے تو پارٹی ہی نہیں بنایا گیا، جب انہیں پارٹی ہی نہیں بنایا گیا تو وہ اپنا جواب کیسے دیں گے؟ سب سے پہلے تو پارٹی کو درخواست میں فریق بنایا جائے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنے وزیراعلیٰ سے اس کیس سے متعلق مشاورت کی ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ یہ لانگ مارچ وزیراعلیٰ تو نہیں کر رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ نے کوئی بیان دیا ہے تو آپ بطور ایڈووکیٹ جنرل اس سے متفق ہیں یا نہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ بھی ہیں اور اس کے ساتھ ایک سیاسی جماعت کے ممبر بھی ہیں۔ عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل نے وزیراعلیٰ کا حلف پڑھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہیے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا وہ ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہیں، وزیراعلیٰ نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون اور ریاست کے خلاف ہو۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیوں یہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی آتے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا یہ سیاسی ایکٹیویٹی ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی سیاسی ایکٹیویٹی ہے؟

چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے عدالتی حکم پر بتایا کہ کسی قسم کی سیاسی ایکٹیوٹی اور سرکاری مشنری کے استعمال روکنے کا نوٹیفکیشن پچھلے سال کیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس جو لگنا ہے وہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے، کیس کب لگنا ہے یہ تو عدالت نے انتظامی طور پر فیصلہ کرنا ہے، آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں؟ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کر دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں شہریوں کی آزادی کا سخت حامی ہوں۔ عدالت نے جواب الجواب دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔