اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں کم عمری کی شادی، غذائی قلت اور صحت کی سہولیات کی محدود دستیابی حاملہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔
یمن میں کم عمری کی شادی اور غذائی قلت حاملہ لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے ، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔14ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں کم عمری کی شادی، غذائی قلت اور صحت کی سہولیات کی محدود دستیابی حاملہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔
یواین نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جنسی و تولیدی صحت (یو این ایف پی اے) کے مطابق یمن میں حاملہ اور دودھ پلانے والی تقریباً 13 لاکھ خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ ایک لاکھ خواتین اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکی ہیں، جس سے زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔یو این ایف پی اے سے وابستہ الحُدیدہ کے ایک محفوظ مرکز کی مشیر ریحام حظبر نے بتایا کہ کم عمر، خصوصاً کم عمری میں شادی شدہ حاملہ لڑکیوں میں غذائی قلت کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سی لڑکیاں کم وزن، خون کی کمی اور شدید تھکن کے ساتھ طبی مراکز پہنچتی ہیں اور ان کے جسم حمل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے۔
یمن دنیا کے شدید ترین انسانی بحرانوں میں شامل ہے جہاں رواں سال 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ ملک کے دو تہائی سے بھی کم طبی مراکز فعال ہیں اور ان میں صرف پانچواں حصہ زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔صحت کارکنوں کے مطابق بہت سی خواتین سفری اخراجات، ادویات اور غذائی سپلیمنٹس کی قیمت برداشت نہیں کرسکتیں، جبکہ سماجی پابندیاں بھی بعض لڑکیوں کو بروقت طبی امداد حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔ کئی علاقوں میں طبی عملے اور مناسب سہولیات کی بھی کمی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں تقریباً ایک تہائی لڑکیوں کی شادی بچپن میں کردی جاتی ہے، جبکہ بے گھر خاندانوں میں یہ شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔
نصف سے زائد آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے باعث خواتین اور لڑکیوں میں شدید خون کی کمی اور وٹامنز کی کمی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یمن میں نصف سے بھی کم خواتین طبی مراکز میں بچوں کو جنم دیتی ہیں جبکہ تقریباً 30 فیصد خواتین کو حمل کے دوران کسی قسم کی طبی نگہداشت میسر نہیں آتی۔ غذائی قلت اور مناسب طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث قبل از وقت پیدائش، خطرناک حد تک خون بہنے، کم وزن بچوں کی پیدائش اور دودھ کی ناکافی پیداوار جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔رپورٹ میں 19 سالہ دونیا عادل کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو آٹھ ماہ کی حاملہ اور پہلے ہی دو سالہ بیٹی کی ماں ہے۔
وہ بچپن میں اسکول جانے اور استاد بننے کا خواب دیکھتی تھی، تاہم غربت کے باعث آٹھ سال کی عمر میں اس کی تعلیم چھوٹ گئی اور 15 سال کی عمر میں اس کی شادی کردی گئی۔دونیا نے بتایا کہ حمل کے دوران اسے خوشی اور خوف دونوں کا احساس ہوا کیونکہ وہ خود کو ایک بچی سمجھتی تھی اور اسی عمر میں ماں بننے کی ذمہ داری اس کے لیے انتہائی مشکل تھی۔ غذائی قلت کے باعث وہ کمزور اور تھکن کا شکار ہے اور اکثر اپنی بیٹی کو کھانا کھلانے کے بعد خود بھوکی سو جاتی ہے۔یو این ایف پی اے کے تعاون سے قائم محفوظ مراکز کے ذریعے متاثرہ خواتین کو طبی مشاورت، علاج کے لیے ریفرل اور دیگر معاونت فراہم کی جارہی ہے۔








