موسم سرما کی سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے بھرپور اقدامات کریں، اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت سمبڑیال

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ مٹر،گاجر، مولی، شلجم، پالک،سلاد، بند گوبھی اور پھول گوبھی سمیت موسم سرما کی سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے بھرپور اقدامات کریں ۔

سیالکوٹ۔ 14 ستمبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ مٹر،گاجر، مولی، شلجم، پالک،سلاد، بند گوبھی اور پھول گوبھی سمیت موسم سرما کی سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے بھرپور اقدامات کریں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پیر کو سبزیوں کے کاشتکاروں کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور متوازن غذاکے حصول کیلئے سبزیوں کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کاشت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ،سبزیوں میں تمام غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو انسانی جسم کی نشوونما کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پھول گوبھی ریشہ دار سبزی ہے جس میں وٹامن سی،مینگانیز اور فولک ایسڈ اور مٹر میں لحمیات جنکو گوشت کا نعم البدل کہا جاتا ہے کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جبکہ سبزیوں کی کاشت دیگر فصلوں کے مقابلہ میں زیادہ منافع بخش ہے اور سبزیاں کم رقبہ سے زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے مطابق ثابت ہوا ہے کہ سبزیوں میں وٹامن اے،سی،تھایا مین، فولک ایسڈ،رائبوفلیون، کیلشیم، فاسفورس،پوٹاش،مینگانیزاور ریشے کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے لہذاانسانی خوراک میں سبزیوں کا استعمال بڑھانے سے پھیپھڑوں کا کینسر، شوگر، ہیپاٹائٹس اور دل کے امراض کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ ہو جاتا ہے ، جسم سے زہریلے اور فاسد مادوں کے اخراج بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ سبزیوں کا استعمال 300سے 350گرام فی کس روزانہ ہونا چاہیے جبکہ ہمارے ملک میں یہ مقدار 100سے150گرام فی کس روزانہ ہے جو سفارش کردہ مقدار سے آدھی سے بھی کم ہے جس کی وجہ سے انسانی بیماریوں اور صحت عامہ کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے نہ صرف بنیادی کھادوں کے متوازن استعمال پر تجربات کئے جائیں بلکہ سبزیوں کی غذائی اہمیت میں اضافہ کیلئے اجزائے صغیرہ زنک، بوران اور آئرن کے محفوظ استعمال کے متعلق تجربات بھی کئے جائیں تاکہ کاشتکاروں کی بہتر رہنمائی کی جا سکے۔