ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک اور سپارکو کا سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی فنانسنگ کا پنجاب میں دائرہ وسیع کرنے کا اعلان

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک (HBL MfB)نے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن ( SUPARCO)کے تعاون سے پنجاب کے کسانوں کے لیے کلائمیٹ سمارٹ ایگری فنانسنگ پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے جو سیٹلائٹ ڈیٹا انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی خطرات کے جائزہ کے ذریعے زرعی فنانسنگ میں تبدیلی کی جانب ایک نمایاں قدم ہے۔یہ اسٹریٹجک اشتراک تجرباتی آغاز سے …

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک (HBL MfB)نے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن ( SUPARCO)کے تعاون سے پنجاب کے کسانوں کے لیے کلائمیٹ سمارٹ ایگری فنانسنگ پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے جو سیٹلائٹ ڈیٹا انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی خطرات کے جائزہ کے ذریعے زرعی فنانسنگ میں تبدیلی کی جانب ایک نمایاں قدم ہے۔یہ اسٹریٹجک اشتراک تجرباتی آغاز سے صوبہ بھر میں توسیع کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس سے پنجاب جو پاکستان کی زرعی معیشت میں اپنے مرکزی کردار کی وجہ سے اہم علاقائی حیثیت کا حامل ہے ، تاکہ کسانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی فنانسنگ ملے گی۔ یہ پروگرام سپارکو کی سیٹلائٹ پر مبنی ریموٹ سینسنگ کی صلاحیتوں اور ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے ملک بھر میں نیٹ ورک اور زرعی فنانسنگ میں مہارت کو یکجا کرتا ہے۔

اس توسیع سے بینک کو بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ ڈیٹا، فصلوں کی نگرانی اور ریموٹ سینسنگ اینالیٹکس سے استفادہ کا موقع ملے گا ۔اس سے زمین کے استعمال اور فصلوں کی حالت کے بارے میں پہلے سے بہتر جائزہ میں معاونت ملے گی جس سے بینک کا زرعی پورٹ فولیو زیادہ مستحکم ہوگا۔اس پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے عامر خان، صدر و سی ای او HBL MfBنے کہاکہ پاکستان کے کسان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، انہیں غیر یقینی موسمی حالات ،پانی کی کمی اور دیگر خطرات کا سامنا ہے جس سے ان کے ذریعہ معاش اور ملک کے غذائی تحفظ کے نظام براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سپارکو کے ساتھ اشتراک سے ہم سیٹلائٹ انٹیلی جنس کی صلاحیت کو زرعی فنانسنگ میں بروئے کارلائیں گے جس سے ہمیں زمینی صورتحال کوبہتر انداز سے سمجھنے اور فنانسنگ سے متعلق پہلے سے زیادہ بہتر، بروقت اور کسانوں کے حقیقی حالات کے مطابق فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ہم اس شراکت داری کو ٹیکنالوجی، فنانس اور قومی اداروں کی طرف سے پاکستان کے زرعی شعبہ کو درپیش چیلنجز سے مل کر نمٹنے کی کوششوں کیلئے ایک ماڈل کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ممبر سپارکو اسپیس ایپلی کیشن اینڈ ریسرچ ونگ ظفر اقبال نے کہا کہ سپارکو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی نگرانی میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتا ہے جسے 35سالوں پر محیط جغرافیائی ڈیٹا آرکیو اور اینالیٹکل نتائج کی معاونت حاصل ہے۔

اس تجربے اور مہارت کی بنیاد پر سپارکو نے مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ ماڈلز تیار کئے اورتربیت دی جو اے آئی پر مبنی کمپیوٹیشنل پلیٹ فارم کے ذریعے درست اور قابل بھروسہ زرعی معلومات اور تجزیہ فراہم کرتے ہیں۔ سپارکو کے اسپیس فار کلائمیٹ اقدام پر مبنی یہ صلاحیت موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے بڑے خطرات بشمول سیلاب، خشک سالی، ژالہ باری کیلئے ممکنہ خطرات کا جائزہ فراہم کرتی ہے۔ اس سے زرعی اور موسمیاتی خطرات سے متعلق معلومات کو زرعی فنانسنگ کے عمل میں شامل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ان تمام صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے سپارکو نے ایک ایسا تجزیاتی نظام تیار کیا ہے جو ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو زرعی قرضوں کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے، کھیت کی سطح پر خطرات کا اندازہ لگانے اور قرض دینے کے بعد نگرانی میں مدد دے گا۔

اس کے علاوہ سپارکو اسپیس فار کلائمیٹ پورٹل کے ذریعے زرعی معلومات عوام تک پہنچائے گا جس سے پاکستان کے زرعی شعبے میں آگاہی میں اضافہ ہوگا اور کسان موسمیاتی خطرات سے بہتر طور پر نمٹ سکیں گے۔اس اشتراک کے ذریعے سپارکو ریموٹ سنسنگ اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے وسیع نیٹ ورک کو معاونت فراہم کرے گا جس سے بینک کو زرعی حالات کا بہتر جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ دونوں ادارے مل کر زرعی فنانسنگ کے لیے معلومات اور ڈیٹا پرمبنی ایک ایسا نظام فروغ دے رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔ اس کا مقصد بہتر معلومات، ذمہ دارانہ فنانسنگ اور زرعی شعبے میں زیادہ مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔