محکمہ زراعت ، دھان کی فصل کی احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری
محکمہ زراعت ، دھان کی فصل کی احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری

مزید خبریں
لاہور۔14ستمبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں،نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کی جائیں جبکہ ممنوعہ زہریں ہرگز استعمال نہ کریں۔زہروں کے استعمال اور فصل کی برداشت کے درمیان وقفہ لازمی مدنظر رکھا جائے تاکہ جنس میں زرعی زہروں کی باقیات قابلِ قبول حد میں رہیں۔ترجمان نے کہا ہے کہ دھان کی اگیتی کاشتہ فصل کٹائی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔کاشتکار دھان کی فصل کی برداشت اس وقت کریں جب بالائی دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں اور نچلے دو تا تین دانے بھر چکے ہوں ،مگر ہلکے سبز ہوں۔
اس مرحلے پر دانوں میں نمی کا تناسب20 تا22 فیصد ہونا چاہیے۔ برداشت کے لیے ترجیحا رائس ہارویسٹر (کبوٹا)مشین استعمال کریں،تاہم اگر دستیاب نہ ہو تو کمبائن ہارویسٹر میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کر کے استعمال کریں تاکہ دانے ٹوٹنے سے بچ سکیں اور پیداوار و معیار متاثر نہ ہو۔کٹائی کا عمل شبنم ختم ہونے کے بعد شروع کریں۔برداشت کے بعد مونجی کو بڑے ڈھیروں میں جمع نہ کریں کیونکہ اس سے ایفل ٹاکسن لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،جو چاول کے معیار، قیمت اور قبولیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
مونجی کو اچھی طرح سکھا کر محفوظ کریں اور ذخیرہ کرتے وقت نمی کا تناسب12 تا 13 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کے کاشتکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت فصل کی باقیات کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔فصل کی باقیات کو جلانے سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ اور مفید جاندار ختم ہو جاتے ہیں جبکہ اس کی باقیات سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ کا باعث بنتا ہے جو انسانی صحت اور ٹریفک حادثات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس ضمن میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے،لہذا کاشتکار دھان کی باقیات کی تلفی کیلئے سپر سیڈرز یا محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔








