پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے خواتین کے فٹ بال کو گراس روٹس سے ایلیٹ لیول تک فروغ دینے اور کھلاڑیوں، کوچز، ریفریز، منتظمین اور قیادت کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنے کے لیے پاکستان ویمنز فٹ بال سٹریٹجی 2026-2030 کا اجراء کر دیا
پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے ویمنز فٹ بال سٹریٹجی 2026-2030 کا اجراء کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے خواتین کے فٹ بال کو گراس روٹس سے ایلیٹ لیول تک فروغ دینے اور کھلاڑیوں، کوچز، ریفریز، منتظمین اور قیادت کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنے کے لیے پاکستان ویمنز فٹ بال سٹریٹجی 2026-2030 کا اجراء کر دیا۔ اسلام آباد میں کاغذ سے میدان تک کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں جاری کی گئی حکمت عملی پانچ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن میں شرکت و مقابلہ جات، کھلاڑیوں کی ترقی و اعلیٰ کارکردگی، تعلیم و استعداد کار میں اضافہ، تشہیر و ترقی اور گورننس و قیادت شامل ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت ملک بھر میں خواتین کے گراس روٹس اور یوتھ مقابلوں کو وسعت دینے کے ساتھ قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر خواتین کی لیگ کا مرحلہ وار نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے جامع کھلاڑی رجسٹریشن سسٹم اور قومی ٹیلنٹ شناختی فریم ورک بھی تشکیل دیا جائے گا۔ پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کے لیے یہ ایک تاریخی سال ہے، قومی خواتین ٹیم نے فیفا ایونٹ میں شرکت کر کے تاریخ رقم کی ہے اور اب خواتین کی ٹیم عالمی رینکنگ میں مردوں کی ٹیم سے بہتر پوزیشن پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کا مقصد صرف کھلاڑی پیدا کرنا نہیں بلکہ خواتین کوچز، ریفریز، مینجرز اور قائدین کے لیے بھی مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ خواتین فٹ بال کے لیے ایک جامع ماحول تشکیل دیا جا سکے۔ پی ایف ایف ہیڈ آف ویمنز فٹ بال میجزگان اورکزئی نے کہا کہ حکمت عملی کا بنیادی مقصد لڑکیوں کو گراس روٹس سطح سے قومی ٹیم تک پہنچنے کے لیے مربوط راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام چیلنجز سے دوچار ضرور ہے تاہم ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں اور یہ حکمت عملی صفر سے آغاز نہیں بلکہ موجودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکمت عملی کے تحت علاقائی تربیتی مراکز، قومی یوتھ پروگرامز اور خواتین کی قومی ٹیم کے لیے ہائی پرفارمنس فریم ورک تشکیل دیا جائے گا جبکہ یوتھ ٹیموں کو باقاعدگی سے بین الاقوامی تجربہ فراہم کرنے اور سینئر قومی ٹیم کے لیے سالانہ کم از کم 10 بین الاقوامی میچز کے انعقاد کی تجویز دی گئی ہے۔تعلیم و استعداد کار کے شعبے میں کم از کم 250 خواتین کوچز کی تربیت و سرٹیفکیشن اور رجسٹرڈ خواتین ریفریز کی تعداد 100 تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔حکمت عملی کے تحت خواتین فٹ بال کی تشہیر، مارکیٹنگ، میڈیا شراکت داری اور شائقین کی شمولیت کے ذریعے سالانہ کم از کم 2 ہزار لڑکیوں تک رسائی حاصل کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد کھوکھر، ٹیکنیکل ڈائریکٹر عدیل رزقی اور وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ سیدہ مہرین ساجد نے بھی خواتین فٹ بال کی ترقی کے لیے واضح منصوبہ بندی، نوجوانوں کی تربیت اور بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے علاقوں میں موجود ٹیلنٹ تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔2030ء تک اس حکمت عملی کا مقصد پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کو ملک کے نمایاں کھیلوں میں شامل کرنا اور گراس روٹس سے ایلیٹ لیول تک ٹیلنٹ کی مکمل سرپرستی کے لیے ایک محفوظ، پیشہ ورانہ اور جوابدہ نظام قائم کرنا ہے۔








