سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد سے متعلق معاہدے میں وقت کو بنیادی شرط نہیں سمجھا جاتا جب تک فریقین کی جانب سے واضح طور پر ایسا طے نہ کیا گیا ہو اور اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان بھی ثابت نہ کیا جائے جبکہ مشترکہ معاہدے میں ہر فروخت کنندہ کی جائیداد الگ اور قابل تقسیم ہو تو ایک فروخت کنندہ کی جانب سے …
غیر منقولہ جائیداد کے معاہدے میں وقت کو بنیادی شرط قرار نہیں دیا جا سکتا،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد سے متعلق معاہدے میں وقت کو بنیادی شرط نہیں سمجھا جاتا جب تک فریقین کی جانب سے واضح طور پر ایسا طے نہ کیا گیا ہو اور اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان بھی ثابت نہ کیا جائے جبکہ مشترکہ معاہدے میں ہر فروخت کنندہ کی جائیداد الگ اور قابل تقسیم ہو تو ایک فروخت کنندہ کی جانب سے معاہدے کا اقرار کرنے کی صورت میں اس کی اپنی جائیداد سے متعلق معاہدہ نافذ کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مارگلہ ٹائون فیز ٹو اسلام آباد کے دو پلاٹوں سے متعلق سول درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے بشیر احمد اور جاوید اقبال کی درخواستیں خارج کر دیں اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان 19 مارچ 2002 کو پلاٹ نمبر 311 اور 312 سے متعلق مجموعی طور پر 14 لاکھ روپے کا معاہدہ فروخت ہوا تھا جس میں 2 لاکھ 20 ہزار روپے بطور بیعانہ ادا کیے گئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پلاٹ نمبر 312 کے مالک بشیر احمد نے اپنے تحریری جواب میں معاہدے میں داخل ہونے، بیعانہ وصول کرنے اور پلاٹ فروخت کرنے کا واضح اقرار کیا، اس لیے وہ اپنی معاہداتی ذمہ داری سے اس بنیاد پر دستبردار نہیں ہو سکتے کہ دوسرے شریک فروخت کنندہ محمد سلیم کے پلاٹ سے متعلق معاہدہ ثابت نہیں ہو سکا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خریدار جاوید اقبال نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 90،90 ہزار روپے کے دو پے آرڈرز جمع کرائے تھے اور متعلقہ ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ بشیر احمد یہ ثابت نہیں کر سکے کہ انہوں نے فائل کلیئر کرائی یا پلاٹ کی حتمی منتقلی کے لیے اپنی باہمی ذمہ داریاں پوری کیں اس لیے وہ معاہدے کی منسوخی کا یکطرفہ دعویٰ نہیں کر سکتے تاہم عدالت نے محمد سلیم کے پلاٹ نمبر 311 سے متعلق خریدار کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ معاہدے پر محمد سلیم کے دستخط یا انگوٹھے کے نشان ثابت نہیں کیے جا سکے۔عدالت کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی دستخطوں سے متعلق رپورٹ بھی غیر حتمی رہی کیونکہ موازنے کے لیے مطلوبہ معیاری مواد ناکافی تھا جبکہ معاہدے کے گواہ بھی محمد سلیم کے خلاف معاہدے کے اجرا کو ثابت نہیں کر سکے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب کسی فریق کے خلاف معاہدے کا درست اجرا ثابت نہ ہو تو اس کے خلاف معاہدے کی مخصوص تکمیل کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد نہ ملنے پر دونوں سول درخواستیں خارج کر دیں اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔








