اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت پر کسی صورت دھاوا بولنے یا جتھوں کی یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت پر کسی صورت دھاوا بولنے یا جتھوں کی یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر مملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری اور ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن طریقے سے احتجاج کو روکنے کی مکمل تیاری اور واضح ہدایات دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر مظاہرین نے فائرنگ کی یا قانون ہاتھ میں لیا تو فورسز کے جوان خاموش تماشائی نہیں بنیں گے بلکہ موثر جواب دیں گے۔ملک میں امن و امان کی صورت حال اور فورسز کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ایک طرف قوم شہداء کے جنازے اٹھا رہی ہے اور دوسری طرف دھرنوں اور یلغار کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیر اعلیٰ پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ پر وسائل ضائع کرنے کے بجائے اپنے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور قانون کی حکمرانی پر توجہ مرکوز کریں۔وزیر داخلہ نے سیاسی جلسوں اور جتھوں کی چڑھائی میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، لیکن یہ اپنے اپنے علاقوں اور صوبوں کی حدود میں ہونا چاہیے نہ کہ دارالحکومت کے گھیرائو کے ذریعے نظام زندگی مفلوج کر کے۔

انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر اس کشیدگی میں کوئی ایک بھی جانی نقصان ہوا تو اس کے براہ راست ذمہ دار احتجاج کے آرگنائزرز ہوں گے۔انہوں نے اپوزیشن کے ذمہ دار رہنمائوں سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تصادم کی اس سیاست سے ملک کا صرف نقصان ہوگا جبکہ حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور دارالحکومت میں کم سے کم زحمت پیدا ہونے دینا ہے۔