سپیکر پنجاب اسمبلی کی زیرِ صدارت اجلاس،ڈیجیٹل گورننس وبنیادی حقوق پر اے آئی اثرات کا جائزہ لیا

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت وجدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو پارلیمانی نظام کا موثر حصہ بنایا جائے تاکہ قانون سازوں اور شہریوں کو اسمبلی کی معلومات اور خدمات تک تیز، آسان اور محفوظ رسائی فراہم کی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق خصوصی کمیٹی نمبر 13 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے …

لاہور۔18ستمبر (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت وجدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو پارلیمانی نظام کا موثر حصہ بنایا جائے تاکہ قانون سازوں اور شہریوں کو اسمبلی کی معلومات اور خدمات تک تیز، آسان اور محفوظ رسائی فراہم کی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق خصوصی کمیٹی نمبر 13 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی احمد اقبال، سارہ احمد، اویس خان دریشک، محمد احمد خان لغاری، عدنان افضل اور ذوالفقار علی شاہ، سیکرٹری جنرل چودھری عامر حبیب، ایڈوائزر برائے سپیکر اسامہ خاور، اسمبلی افسران اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے شرکت کی۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس کے قانون سازی، جمہوریت وبنیادی حقوق پر بڑھتے ہوئے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ ورکشاپ کے نتائج کا بھی جائزہ لیا، جس کا مقصد ارکانِ اسمبلی کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق استعدادِ کار میں اضافہ کرنا تھا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے ہدایت دی کہ پنجاب اسمبلی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک خصوصی پلیٹ فارم قائم کیا جائے، جس کے ذریعے اسمبلی کے ریکارڈ اور پارلیمانی معلومات تک اے آئی کی مدد سے رسائی ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ڈیجیٹلائزیشن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے موثر گورننس، شفافیت، عوامی سہولت اور بہتر پارلیمانی خدمات کیلئے بروئے کار لایا جانا چاہیے، مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ معلومات کی درستگی، سکیورٹی، رازداری اور ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

ملک محمد احمد خاں نے مزید ہدایت کی کہ مجوزہ پلیٹ فارم کی تیاری اور فعال بنانے کیلئے ضروری تکنیکی وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کی جائے،ارکانِ اسمبلی اور اسمبلی سٹاف کو مصنوعی ذہانت کے موثر استعمال کے حوالے سے باقاعدہ تربیت بھی دی جائے۔ سپیکر نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے موثر استعمال کے ساتھ ان کی پارلیمانی نگرانی بھی ضروری ہے، قانون ساز اداروں کو مصنوعی ذہانت کے جمہوریت، بنیادی حقوق اور شہری زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھتے ہوئے موثر قانون سازی اور نگرانی کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے جمہوریت اور انتخابی عمل پر ممکنہ اثرات، معلومات میں ردوبدل، غلط معلومات، جعل سازی، فراڈ اور ڈیجیٹل استحصال کے خدشات کا بھی جائزہ لیا گیا، انسانی وقار، مساوات اور عدمِ امتیاز سمیت بنیادی حقوق پر مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات بھی زیرِ بحث آئے۔

کمیٹی نے پنجاب حکومت کے سماجی و معاشی رجسٹری سمیت مختلف ڈیجیٹلائزیشن منصوبوں کو مزید تحقیقات کے ممکنہ شعبوں کے طور پر زیرِ غور لاتے ہوئے ان کی موثریت، گورننس کے طریقہ کار اور شہریوں پر اثرات کا جائزہ لینے پر بھی غور کیا ۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور عوامی مفاد میں استعمال کیلئے مسلسل تربیت، استعدادِ کار میں اضافہ، پارلیمانی نگرانی اور جامع گورننس فریم ورک ضروری ہے۔