ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع عدیل احمد نے کہا کہ دھان کا تیلہ ایک خطرناک کیڑا ہے جو جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نقصان بہت زیادہ پہنچاتا ہے
محکمہ زراعت نے دھان کے تیلے کے کنٹرول کیلئے سفارشات جاری کر دیں

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 ستمبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع عدیل احمد نے کہا کہ دھان کا تیلہ ایک خطرناک کیڑا ہے جو جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نقصان بہت زیادہ پہنچاتا ہے۔ دھان کا تیلہ پودے کے نچلے حصہ یعنی تنے کا رس چوستا ہے اور جب نیچے سے فصل سوکھ جاتی ہے تب اوپر پتوں اور مونجروں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیلے کا حملہ عام طور پر کھیت میں ٹکڑیوں کی شکل میں شروع ہوتا ہے۔ بالغ اور بچے پودوں کے پتوں اور تنوں کا رس چوستے ہیں۔ متاثرہ پتے پہلے پیلے اور پھر بھورے ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدید حملہ کی صورت میں پودے سوکھ کر سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں اور جھلسے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ حملے کی اس نوعیت کو تیلے کا جھلساؤ کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں یہ کیڑا عموماً ستمبر کے دوسرے ہفتے میں فصل پر حملہ آور ہوتا ہے۔
دھان کی موٹی اقسام پر اس کا حملہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کے تیلے کے تدارک کیلئے کھیت کے اندر اور اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو تلف کریں کیونکہ تیلہ ان پر پرورش پاتا ہے۔ دھان کے تیلے کو دستی جال سے اکٹھا کر کے تلف کریں اور پروانوں کو تلف کرنے کیلئے رات کو روشنی کے پھندے لگائیں۔ کھیت میں مسلسل پانی کھڑا نہ رکھیں۔انہوں نے کہا کاشتکار سایہ دار جگہوں پر دھان کاشت نہ کریں، نائٹروجن والی کھادوں کا غیر ضروری استعمال نہ کریں اور تجویز کردہ تعداد سے زیادہ پودے نہ لگائیں۔انہوں نے کہا کہ دھان کے تیلے کے کیمیائی تدارک کیلئے کاشتکار محکمہ زراعت کے مقامی ماہرین کے مشورہ سے زرعی زہروں کا استعمال کریں اور ان زرعی زہروں کے سپرے سے قبل دھان کا وقفہ قبل از برداشت ضرور دھیان میں رکھیں۔








