امریکی سفارتخانہ کے سٹیم بلڈر پروگرام کی تکمیل کے موقع پر جدت کی پذیرائی

امریکی سفارتخانہ کی جانب سے لنکن کارنر میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ، آرٹس اینڈ میتھس کے شعبوں میں اسٹیم بلڈر کے عنوان سے تربیتی پروگرام مکمل ہو گیا۔ سٹیم بلڈر کے تحت ایک سو سے زیادہ شرکاء کو تھری ڈی پرنٹنگ، کوڈنگ اور ڈیجیٹل ماڈلنگ کی تربیت دی گئی۔

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):امریکی سفارتخانہ کی جانب سے لنکن کارنر میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ، آرٹس اینڈ میتھس کے شعبوں میں اسٹیم بلڈر کے عنوان سے تربیتی پروگرام مکمل ہو گیا۔ سٹیم بلڈر کے تحت ایک سو سے زیادہ شرکاء کو تھری ڈی پرنٹنگ، کوڈنگ اور ڈیجیٹل ماڈلنگ کی تربیت دی گئی۔ جمعہ کو جاری بیان کے مطابق اس حوالہ سے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تربیت میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں قائم چھ لنکن کارنرز سے وابستہ افراد کی شرکت اس تربیتی کوشش کی رسائی اور اہمیت کی غماز ہے، جو ٹیکنالوجی اور جدت میں امریکی برتری کو اجاگر کرتی ہے۔

پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنی ایزکورپس کے ساتھ قریبی تعاون سے مکمل ہونے والے سٹیم بلڈر پروگرام میں شرکاء کو جدید ترین آلات کے استعمال سے عملی تجربہ فراہم کیا گیا اور جدت پسند افراد کی نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں سے آراستہ کیا گیا۔اس موقع پرامریکی سفارتخانہ کے قائم مقام منسٹر قونصلر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈیوڈ موئر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سٹیم بلڈر صرف ایک تربیتی نشست تک محدود نہیں بلکہ یہ اس امر کا اظہار ہے کہ لنکن کارنرز ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت اور مواقع کے ایسے مراکز کے طور پر فعال ہیں جہاں پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسٹیم ٹیلنٹ امریکی ٹیکنالوجی اور تعلیمی ماڈلز سے استفادہ کرتے ہوئے وہ آلات اور مہارتیں حاصل کرتے ہیں جو جدت، کاروباری صلاحیت اور اقتصادی ترقی کو تقویت دیتی ہیں۔

امریکی سفارتخانہ کی جانب سے فریڈم ٹو ففٹی کے جشن کی مناسبت سے پایہ تکمیل پانے والے تربیتی پروگرام میں تھری ڈی کی معاونت سے لبرٹی بیل کی اشاعت اور امریکہ کا ایک تھری ڈی نقشہ بھی تیار کیا گیا۔ یہ دونوں چیزیں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان کی اسلام آباد عمارت میں واقع لنکن کارنر میں مستقل طور پر رکھی جائیں گی۔مُلک بھر میں پندرہ مقامات پر قائم لنکن کارنرز پر مشتمل نیٹ ورک کی آئندہ سال سرگرمیاں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی اسی سالہ سالگرہ کے موقع پر سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ، آرٹس اور میتھس پرمزید توجہ مرکوز کی جائے گی۔