پاکستان کی مستقبل کی معیشت علم، ٹیکنالوجی، جدت اور برآمدات کے ستونوں پر استوار ہونی چاہیے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی معیشت علم، ٹیکنالوجی، جدت اور برآمدات کے ستونوں پر استوار ہونی چاہیے جبکہ سیمی کنڈکٹر اور چپ ڈیزائن کی صلاحیت جدید معیشت کی بنیاد بن چکی ہے۔غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ میں ڈیجیٹل ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن ٹریننگ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن ٹریننگ …

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی معیشت علم، ٹیکنالوجی، جدت اور برآمدات کے ستونوں پر استوار ہونی چاہیے جبکہ سیمی کنڈکٹر اور چپ ڈیزائن کی صلاحیت جدید معیشت کی بنیاد بن چکی ہے۔غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ میں ڈیجیٹل ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن ٹریننگ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن ٹریننگ پروگرام کی منظوری دی گئی۔

پہلے ڈیجیٹل آئی سی ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن پروگرام میں 40 طلبہ و طالبات نے چار ماہ کی تربیت مکمل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان صرف سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے ایک نئے شعبے میں قدم رکھنے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم کو ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کو برآمدات میں تبدیل کر سکیں۔احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کی ہر جدید مصنوعات، لیپ ٹاپ سے گاڑی اور بڑی مشینری تک، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سے جڑی ہوئی ہے۔ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ پاکستان کو اعلیٰ معیار کا انسانی سرمایہ فراہم کر رہا ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2017ء میں بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور روبوٹکس سمیت سات قومی مراکز قائم کیے گئے جبکہ کوانٹم ویلی پاکستان جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے نئے دور کی بنیاد بنے گی۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد اب ہمیں معرکہ ترقی میں کامیابی حاصل کرکے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ نوجوان نسل کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی معیشت میں باوقار مقام دلایا جا سکتا ہے۔