ڈائریکٹرنظامت زرعی اطلاعات فیصل آبادڈاکٹر آصف علی نے کہاہے کہ موسم سرما کی سبزیاں ستمبر اکتوبر میں کاشت ہوتی ہیں اور فروری مارچ تک برداشت ہوتی رہتی ہیں۔موسم سرما کی سبزیوں میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی
محکمہ زراعت پنجاب کی موسم سرما کی سبزیات کی کچن گارڈننگ سے متعلق سفارشات جاری

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 ستمبر (اے پی پی):ڈائریکٹرنظامت زرعی اطلاعات فیصل آبادڈاکٹر آصف علی نے کہاہے کہ موسم سرما کی سبزیاں ستمبر اکتوبر میں کاشت ہوتی ہیں اور فروری مارچ تک برداشت ہوتی رہتی ہیں۔موسم سرما کی سبزیوں میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی، شلجم، مٹر، گاجر، پالک، میتھی، دھنیا، لہسن اور مٹر جبکہ موسم گرما میں بھنڈی، کریلا، کھیرا، تربوز اور خربوز وغیرہ کو زمین میں براہ راست کاشت کیا جا تا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پھول گوبھی، بند گوبھی، بروکلی، پیاز اور سلاد موسم سرما میں بذریعہ پنیری کاشت ہونے والی سبزیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سبزیوں کے لیے ایسی جگہ منتخب کریں جہاں پودے دن میں کم از کم چھ گھنٹے سورج کی روشنی سے مستفید ہوسکیں۔اگر آپ کے صحن یا باغیچے میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں زیادہ دیر تک سایہ رہتا ہو تو ایسی جگہ پر پتوں والی سبزیاں مثلا دھنیا، پودینہ، پالک، سلاد وغیرہ کاشت کریں۔
انہوں نے کہا کہ کاشت کے لیے منتخب رقبہ کو ناپ لیں تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ رقبہ کے لیے کتنی کھاد اور بیج کی ضرورت ہو گی۔ بعض سبزیاں مثلا دھنیا، پودینہ کم رقبے سے بھی گھر کی ضرورت پوری کر دیتی ہیں جبکہ دیگر سبزیوں کو زیادہ رقبے کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشت سے قبل کاغذ پر ایک خاکہ بنا کر اس میں منتخب سبزیاں لکھ لیں۔ اسی طرح سے خاکہ میں سبزیوں کی قطاروں، پودوں کا فاصلہ، کھاد کی ضرورت وغیرہ درج کر لیں تا کہ زمین کی تیاری کے وقت دشواری نہ ہو۔ سبزیوں کی قطاروں کا رخ سردیوں میں شمالاً جنوبا ًرکھیں تا کہ دھوپ زیادہ مقدار میں مل سکے۔انہوں نے کہا کہ سبزیوں کو پالتو جانوروں مثلا مرغی، خرگوش وغیرہ سے بچانے کے لئے رقبے کے اردگرد حفاظتی باڑ کا انتظام کریں۔ پرندوں مثلا طوطے چڑیا وغیرہ سے مٹر اور دیگر سبزیوں کو بچانے کے لئے رقبے میں چمکیلی پٹی باندھنے سے پرندے سبزیوں سے دور رہتے ہیں۔








