اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب دنیا کو غزہ، یوکرین، ایران، سوڈان سمیت مختلف تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، عالمی عدم مساوات اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس، تنازعات اور مصنوعی ذہانت پر عالمی رہنماؤں کی توجہ مرکوز ہوگی

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔21ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب دنیا کو غزہ، یوکرین، ایران، سوڈان سمیت مختلف تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، عالمی عدم مساوات اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان پرامن تنازعات کے حل، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ پر زور دے گا۔اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ 130 سے زائد سربراہان مملکت و حکومت اعلیٰ سطحی مباحثے میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف 25 ستمبر کو 193 رکنی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔اجلاس کی صدارت بنگلہ دیش کے اعلیٰ سفارتکار خلیل الرحمان کر رہے ہیں اور اس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا نظم: سب کے لیے قابلِ عمل اقوام متحدہ‘‘ ہے۔ جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی ہفتہ 22 سے 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے اے پی پی سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایسے وقت میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جب عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت اور کردار میں اضافہ ہوا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں علاقائی و عالمی سلامتی کی صورتحال پر پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت اجاگر کریں گے۔ وہ پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کے اہداف سمیت اہم عالمی امور پر پاکستان کی ترجیحات بھی بیان کریں گے۔وزیراعظم بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور فلسطین سمیت طویل عرصے سے جاری قبضے اور حق خودارادیت سے محرومی کے معاملات کی جانب بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان مسائل کے حل پر زور دیں گے۔وزیراعظم ترقی، موسمیاتی اقدامات اور دیگر اہم امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ متعدد عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے اجلاس سے قبل اپنی آخری پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی رہنماؤں کے لیے یہ موقع ہونا چاہیے کہ وہ جاری بحرانوں کے دوران براہِ راست ملاقات اور بات چیت کریں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ سمجھ بوجھ اور مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس کے دوران موسمیاتی تبدیلی، سمندر کی سطح میں اضافے سے جزیرہ نما اور کم بلندی والے ممالک کو لاحق خطرات، وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سمیت متعدد امور زیر بحث آئیں گے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو ’’اولین ترجیح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کونسل کی موجودہ تشکیل کئی دہائیوں پرانی عالمی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے اور اسے آج کی دنیا کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔








