چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ عالمی یومِ امن ہمیں دنیا میں امن، برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے،پائیدار امن کے لیے جنگ و تنازع کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے کو فروغ دینا ہوگا
عالمی یومِ امن برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے، سینیٹر روبینہ خالد

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ عالمی یومِ امن ہمیں دنیا میں امن، برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے،پائیدار امن کے لیے جنگ و تنازع کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے کو فروغ دینا ہوگا۔عالمی یومِ امن پر جاری پیغام میں سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مساوات، انسانی وقار اور محفوظ معاشرے کے قیام کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات سے سب سے زیادہ عام شہری، خواتین اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔عالمی برادری تنازعات کے پُرامن حل اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بھوک، محرومی اور عدم مساوات کا خاتمہ پائیدار امن کے قیام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔سماجی تحفظ، تعلیم، صحت اور روزگار میں سرمایہ کاری بھی امن کے قیام کی بنیاد مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور کمزور طبقات کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانا پُرامن اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، پائیدار ترقی کے بغیر دیرپا امن کا حصول مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکالمہ، برداشت اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام معاشروں میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ ہیں ۔دنیا کو محاذ آرائی کے بجائے تعاون، تقسیم کے بجائے اتحاد اور نفرت کے بجائے انسانیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ عالمی یومِ امن پر عہد کرتے ہیں کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے لیے تحفظ، عزت اور مساوی مواقع کے فروغ کی کوششیں جاری رکھیں گے۔پُرامن دنیا کی تعمیر حکومتوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آج کی دنیا کو جنگوں کے بجائے امن، نفرت کے بجائے محبت اور تنازعات کے بجائے مکالمے کی ضرورت ہے۔








