مودی حکومت کے نام نہاد ’’شائننگ انڈیا‘‘ اور معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان بے روزگاری اور تعلیم کے سنگین ترین بحران سے دوچار ہو چکے ہیں۔
مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث بھارتی نوجوان بے روزگاری اور تعلیمی بحران کا شکار، مودی کے نام نہاد ’’شائننگ انڈیا‘‘ کا پول کھل گیا، بھارتی میڈیا

مزید خبریں
نئی دہلی۔22ستمبر (اے پی پی):مودی حکومت کے نام نہاد ’’شائننگ انڈیا‘‘ اور معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان بے روزگاری اور تعلیم کے سنگین ترین بحران سے دوچار ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت کی ناقص اور غیر متوازن پالیسیوں نے نوجوان نسل کے مستقبل کو تاریک کر کے ملکی معیشت و سماج کو شدید زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔معروف بھارتی جریدے ’’دی وائر‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے سرکاری سروے نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے، جس کے تحت ملک کے 250 اضلاع میں 25 فیصد نوجوان بنیادی تعلیم اور باعزت روزگار دونوں سے مکمل محروم ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت کو روزگار کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور بھارت میں صرف 7 فیصد گریجویٹس ایک سال کے اندر ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ ہوشربا 93 فیصد تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے حصول میں بری طرح ناکام رہے۔معاشی تحقیق کی معروف بھارتی ماہر پروفیسر سونالدی دیسائی نے بھی مودی دورِ حکومت میں ملک بھر کے اندر بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔’’دی وائر‘‘ نے بھارتی تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ نوجوان تعلیم اور روزگار کے مواقع سے یکسر محروم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی نوجوانوں کا مستقبل عملی طور پر مودی سرکار کی غلط پالیسیوں اور سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔








