ستمبر 1965 کی جنگ پاکستان کی عسکری تاریخ میں شجاعت، قربانی اور ناقابلِ تسخیر دفاع کا سنہری باب ہے، جس کے دوران 22 ستمبر 1965 کا دن بھارت کے لیے بدترین ہزیمت کا سورج لے کر طلوع ہوا۔
ستمبر 1965 کی جنگ کا 22واں روز، معرکہ ڈوگرائی میں پاک فوج نے دشمن کے لاہور پر قبضے کے عزائم خاک میں ملا دیئے

مزید خبریں
راولپنڈی ۔22ستمبر (اے پی پی):ستمبر 1965 کی جنگ پاکستان کی عسکری تاریخ میں شجاعت، قربانی اور ناقابلِ تسخیر دفاع کا سنہری باب ہے، جس کے دوران 22 ستمبر 1965 کا دن بھارت کے لیے بدترین ہزیمت کا سورج لے کر طلوع ہوا۔ پاکستان اور بالخصوص لاہور کے دفاع کے لیے لڑی جانے والی اس تاریخی جنگ میں ’’معرکہ ڈوگرائی‘‘ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔معرکہ ڈوگرائی کے دوران پاک فوج کی پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز یونٹ نے دشمن کے مقابلے میں بے مثال جرات و بہادری کی تاریخ رقم کی۔ اس یونٹ نے صرف دو کمپنیوں کی مدد سے دشمن کے پے در پے 18 حملوں کو کامیابی سے پسپا کیا اور 106 شہدا کے مقدس لہو کے نذرانے سے دشمن کا لاہور پر قبضے کا خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور کر دیا۔ان 106 بہادر سپوتوں کی لازوال قربانی پاکستانی قوم کے پختہ عزم، غیر متزلزل حوصلے اور مادرِ وطن کے دفاع کے جذبے کی روشن علامت ہے۔ لاہور چھائونی میں واقع ان شہدا کی یادگار ’’گنجِ شہیداں‘‘ کے نام سے مرجع خلائق ہے، جو قوم کے محافظوں کی دلیری اور قربانیوں کی داستان سناتی ہے۔ہر سال 22 ستمبر کو وطن عزیز کی سالمیت اور خودمختاری کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پنجاب رجمنٹ کے ان بہادر سپوتوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔







